کراچی(ایچ آراین دبلیو)وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی ذیر صدارت موٹروہیکلز رولز میں ترامیم پر اجلاس کا انعقاد کیا گیا اورشرکاء کےمابین سیر حاصل معلومات پر مشتمل گفتکو، مشاورت اور تجاویز کو پیش نظر رکھتے ہوئے کارآمد اور مفید ترامیم اور فیصلے کیئےگئے۔ان فیصلوں میں کمرشل نان کمرشل گاڑیوں کی فٹنس لازمی قراردینے،گاڑیوں کی فٹنس تھرڈ پارٹی کےذریعے روانے،کالےشیشوں فینسی لائٹس ہوٹر کی آن لائن یا دکان پر فروخت پر پابندی و دیگر سرفہرست ہیں۔
اجلاس کوسیکریٹری قانون،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے موٹروہیکلز رولز میں فی زمانہ ضروری ترامیم،ٹریفک قوانین پر عمل درآمد و دیگر ضروری امور و اقدامات پر علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی۔
اس موقع پراجلاس کےشرکاء نےچارسیٹررکشوں پر مکمل پابندی عائد کرنے، واٹر ٹینکرز،ڈمپرز میں ٹریکرز،سینسرز کی تنصیب کو لازمی قراردینےسےمتعلق قانون میں ضروری ترامیم کی متفقہ طورپرمنظوری دیتے ہوئے اس حوالے سے جامع مسودہ ترتیب دیکر برائے منظوری و توثیقی اقدامات حکومت سندھ کو ارسال کرنیکا اعادہ کیا۔
وزیر قانون سندھ کا کہنا تھا کہ کمرشل اور نان کمرشل گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفیکٹس کے اجراء کے لیئے تھرڈ پارٹی سے خدمات لی جائیں گی اور اس ضمن میں تمام قواعد و ضوابط کو سامنے رکھتے ہوئے تھرڈ پارٹی سے حکومتی سطح پر باقاعدہ مفاہمتی یاداشت ( ایم او یو) پر دستخط بھی کیئے جائینگے۔
ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ٹریفک دباؤ،ٹریفک حادثات اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیئے صرف ون بائی ٹو سیٹر رکشوں کو سڑکوں پر لانیکی اجازت ہوگی جبکہ
ون وے کی خلاف ورزی پر سرکاری گاڑیوں پر دو لاکھ روپے،رانگ وے موٹر سائیکل چلانے پر 25 ہزار روپے،فور وہیلرز کی ون وے کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے،ڈرائیونگ لائسنس کےبغیر موٹر سائیکل چلانے پر 25 ہزار، کار پر 50 ہزار روپے جبکہ ون۔ویلنگ ڈرفٹنگ پر پہلی بار ایک لاکھ اور بعداذاں بالترتیب دو اور تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔
ضیاء الحسن لنجار نے اس موقع پر بھاری/مال بردار گاڑیوں میں کم از کم 5 کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دینے کی منظوری دی علاوہ اذیں ٹریفک رولز اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر جاری کردہ ای چالان گاڑی مالکان کے گھروں کے ایڈریسز پر ارسال کیئے جائینگے جبکہ ٹریفک چالان کی مد میں عائد کردہ جرمانوں کی عدم ادائیگی پر ایسی تمام گاڑیوں کی فروخت اور انھیں ٹرانسفر نہیں کیا جاسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور ایکسائز کا نظام اب سے باہم منسلک ہوگا اور آن لائن ہوگا۔انہوں نے مذید کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر مشتمل کیسز کیلیئے ٹریفک مجسٹریٹ کی تعنیاتی کی جائیگی۔
وزیر ایکساٰئز کا کہنا تھا ٹریفک قوانین کے نفاذ اور عمل درآمد کے لیئے محکمہ ایکسائز ہر ممکن تعاون کریگا جبکہ چار یا اس سے زائد سیٹرز رکشوں/چنگجی کی ہر گز رجسٹریشن/روٹ پرمٹس نہیں دیا جائیگا اور سڑکوں پر دکھائی دینے کی صورت میں انکے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ فٹنس سروسز کا تنظیمی ڈھانچہ تیار کرنیکے جملہ اقدامات کو جلد سے جلد یقینی بنایا جائیگا بعداذاں گاڑیوں کی فٹنس پر عمل درآمد سختی سے کیا جائیگا-اجلاس میں آئی جی سندھ، سیکریٹریز قانون، ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے شرکت کی۔


