55

سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی، انفیکشن کنٹرول کے اصول پامال

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے دباؤ اور سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی نے انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کو روند ڈالا ہے۔سول اسپتال کراچی اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال (این آئی سی ایچ) کی ایمرجنسی وارڈز میں ایک ہی بستر پر دو مریضوں کو رکھنا معمول بن چکا ہے جبکہ بعض اوقات این آئی سی ایچ میں ایک بستر پر تین سے چار بچے لٹائے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر بین الاقوامی گائیڈ لائنز کے مطابق ہر مریض کو علیحدہ بستر اور مناسب فاصلہ فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ انفیکشن ایک سے دوسرے مریض تک منتقل نہ ہو۔کراچی کے بڑے سرکاری اسپتال ان اصولوں پر عملدرآمد سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکثر ایسے مریض بھی اسپتال پہنچتے ہیں جنہیں پہلے سے جناح یا انڈس اسپتال سے تشویشناک حالت میں ریفر کیا جاتا ہے۔ جب ان مریضوں کو مزید داخلہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے تو وہ اسپتال کے باہر بیٹھے رہتے ہیں اور کسی صورت جانے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں اور عملے کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا، سوائے اس کے کہ وہ مریض کو ایمرجنسی کے ان ہی بستروں پر ایڈجسٹ کرکے داخلہ اور علاج کی سہولیات دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں