غزہ(ایچ آراین ڈبلیو)غزہ سے موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 51 فلسطینی شہید اور 503 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کا نشانہ رہائشی علاقے، ہسپتال، اور امدادی مراکز بنے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
صبح 5:30 بجے رفح کے قریب ایک امدادی ٹرک پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں 15 افراد شہید ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، متاثرین خوراک لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔
صبح 9 بجے غزہ شہر کے الوحدہ علاقے میں واقع ایک ڈائیلاسس ہسپتال پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں مریض اور طبی عملہ شامل تھے۔ ہسپتال میں پہلے ہی ادویات کی قلت تھی، جس سے زخمیوں کے علاج میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوپہر 12:45 بجے خان یونس کے المقاولہ علاقے میں میزائل حملہ کیا گیا، جس میں 9 شہری شہید ہوئے۔ یہ علاقہ پہلے ہی پناہ گزینوں سے بھرا ہوا تھا، اور حملے کے بعد مزید لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
شام 4:20 بجےالشفا ہسپتال کے باہر اسرائیلی ٹینک کی جانب سے گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ علاقہ امدادی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اور اس پر حملہ عالمی سطح پر سخت مذمت کا سبب بنا ہے۔
زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں طبی عملہ، ادویات، اور سہولیات کی شدید کمی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حملوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتنے مظالم کے بعد بھی مسلمانوں کا دشمن ادارہ یعنی اقوامِ متحدہ صرف معمولی مذمت ہی کر سکتی ہے جبکہ مسلم حکمران اور مسلم جرنیل منافقت کی بدترین گڑھے میں گر چکے ہیں جن کو صرف جہنّم کی آگ ہی جگا سکیں گی


