کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نیوکراچی الیون ڈی کی مویشی منڈی، اطراف کے مکینوں کی جانب سے شکایتوں کے انبارلگ گئے-کھیل کود کے میدان پر قابض ہونے والی مافیاز، کبھی کار بازار، کبھی بدھ بازار اور اب مویشی منڈی کے نام پر قبضہ کرے ہوئے ہیں، اہل علاقہ خوشگوار ماحول، صحت افزاء ماحول کے لئے پریشان ہوگئے-
عام دنوں میں ارشد عرف لمبا اور فرقان نامی اشخاص بازاروں کی اڑ میں بچوں کے کھیل کود کے میدان پر قابض رہتے ہیں اور اب ستار اور شبیر نامی اشخاص نے مویشی منڈی کے نام پر ریاست قائم کر رکھی ہے، علاقہ مکینوں کے مطابق اہل علاقہ کے ساتھ مارپیٹ گالم گلوچ کی شکایتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے-
جبکہ مویشی منڈی کی پارکنگ کے نام پر یومیہ ہزاروں روپے شہریوں کی جیبوں سے لوٹا جا رہا ہے، جس میں موٹر سائیکل پارکنگ 30 روپے اور کار پارکنگ کی مد میں 100 روپے وصول کئے جا رہے ہیں-
جس پر اگر آپ کی گاڑی چوری ہو بھی جائے تو انتظامیہ پر آپ کو لوٹنے کے باوجود کسی قسم کی کوئی ذمہداری عائد نہیں ہوتی اور جملہ پارکنگ بھتہ کی پرچی پر تحریری طور پر لکھا ہوا ہے
جبکہ کمشنر کراچی کے واضح احکامات اور دفع 144 کے نفاذ کے بعد سروس روڈ اور فٹ پاتھوں پر جانوروں کی خرید وفروخت بلکل ممنوع فعل ہے
لیکن نیوکراچی سیکٹر الیون ڈی کی لگنے والی منڈی کے چاروں اطراف کے سروس اور مین روڈ سمیت فٹ پاتھوں پر بھی جانوروں کی خرید وفروخت، انکے کھانے پینے اور انکے فضلہ جات وہیں موجود ہیں، جسکی بابت صفائی ستھرائی کا بھی ناقص انتظام ہے اور بدبو اور تعفن سے شہریوں کا جینا محال اور وبائیں پھوٹنے کا خدشہ بھی موجود ہے
جبکہ ریاست کی ملی بھگت سے ریاست کے اندر ریاست قائم ہو چکی ہے، ستار اور شبیر کی جانب سے پارکنگ مافیا کا ٹھیکہ یا فرنٹ مین یا منشی کے طور پر فہد نامی شخص کو مقرر کیا گیا ہے، جسکی سرپرستی میں عوام کی جیبوں پر 30 روپے اور 100 روپے کے مختصر ڈاکے بدستور جاری ہیں
اس کے علاوہ مویشی منڈی میں ستار اور شبیر کے فرنٹ مین راجہ، چوہان موجود ہیں، منڈی کے نام پر بنائی گئی ریاست کے یہی دو ستون ہیں، جن کی زیر نگرانی مقامی آبادی کو یرغمال۔بنانا، لڑنا جھگڑنا، بدمعاشی کرنا روز کا معمول ہوگیا ہے
علاقہ مکینوں کے مطابق مویشی منڈی کے نام پر ہٹ دھرمی کی ریاست قائم کرنے والے بجلی بھی چوری کی استعمال کر رہے ہیں
چند لائٹیں جنریٹر پر جلا کر، اے سی چلانے کے لئے کنڈے لگا کر بجلی چوری میں ملوث ہیں، جبکہ مکینوں کے مطابق اس چوری کی بھرپائی ہم اہل علاقہ کے میٹر صارفین سے کی جائے گی، جبکہ ان کا تو یہ حال ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے
جبکہ کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی، ایس ایس پی وسطی اور ایس ایچ او نیوکراچی، جیب گرم کرنے کے بعد قربانی کی تیاریوں میں مصروف
جیب کی حدت کے بعد، تمام شکایات پر آنکھیں موند کر اوکے اوکے کی گردان اور عوام کے ساتھ بدمعاشی، پارکنگ کے نام پر لوٹ مار، بچوں کے کھیل کود کے میدان پر قبضہ، اور اس پر ہٹ دھرمی یہ کہ کنڈا لگا کر بجلی بھی چوری کی استعمال کی جارہی ہے-عوام نے سندھ کی طاقتور ترین شخصیات سے اپیل کی ہے کہ ہمیں اس آفت سے نجات دلائی جائے


