48

افغان وزارت داخلہ اور ٹی ٹی پی وفد کے درمیان تلخ ملاقات، تحفظات پر شدید احتجاج

کابل(ایچ آراین ڈبلیو)افغان دارالحکومت کابل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے وفد اور افغان وزارت داخلہ کے حکام کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ٹی ٹی پی وفد نے اپنے تحفظات پر شدید احتجاج کیا۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کی قیادت ٹی ٹی پی کے سینیئر رہنما ملا فقیر محمد نے کی۔ ملاقات کے دوران ٹی ٹی پی وفد نے افغان حکام پر الزام عائد کیا کہ افغانستان میں ان کے کمانڈروں اور کارکنوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ٹی ٹی پی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگست 2021 میں افغان حکومت کے دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اب تک ان کے گروپ پر 243 سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جبکہ 143 افراد کے اغوا کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، تاہم ان حملوں یا اغوا کے کسی بھی واقعے میں ملوث کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ٹی ٹی پی وفد نے شکایت کی کہ “افغان حکومت اپنے اندرونی مخالفین کو تو چند گھنٹوں میں تلاش کر لیتی ہے، لیکن ہمارے خلاف ہونے والے پرتشدد واقعات پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔”

افغان حکومت کی جانب سے اس ملاقات یا اس میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی، دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے امور پر کافی حد تک مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں