کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ مینٹل ہیلتھ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور کسی ایک صنف تک محدود نہیں اور مردیاعورت کوئی بھی اس مسئلہ کا شکار ہوسکتاہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کے مینٹل ہیلتھ کو ڈرامہ سمجھاجاتاہے جبکہ مرد کے ڈرامے کو بھی حقیقت سمجھتے ہیں،ہمیں یہ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔نشہ ایک فرد کوہلاک نہیں کرتا بلکہ پوری قوم کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں منشیات کے استعمال میں اضافے کی ایک وجہ جسمانی سرگرمیوں کا فقدان بھی ہے،ہم اپنے نوجوانوں کو صحتمندانہ سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے سے قاصر اورریاست ذمہ داری لینے کو تیارنہیں جبکہ دنیابھر میں عوام کی فلاح وبہبود اور ضروریات زندگی کی تمام سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری ریاست نے یہ تمام ذمہ داریاں این جی اوزکے حوالے کردی ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات،لیگل رائٹس فورم اور اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئر زڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے زیراہتمام آڈیوویژول سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ آگہی سیشن بعنوان: ”نوجوانوں کی ذہنی صحت اور منشیات پر انحصار“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ اس ملک کا مستقبل اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتا جب تک معاشی ترقی نہیں ہوگی،پاکستان میں انڈسٹریزلگنا تقریباً بند اور ہم تعلیم پر سرمایہ کاری کرنے کو تیارنہیں،ہمیں پاکستان کے روشن مستقبل کے دعوؤں سے نکل کر زمینی حقائق کو دیکھنے اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔روشن مستقبل کے لئے تعلیم اور اقتصادی ترقی پر سرمایہ کاری ناگزیرہے۔معاشی خوشحالی سے منشیات کے استعمال میں بھی کمی آسکتی ہے،ہمیں ان وجوہات کو بھی جاننے اور اس کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان نشہ کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی بلال جدون اور محمد دانیال نے کہا کہ ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر مسائل کا سامناکرناپڑتاہے لیکن ہمیں مسائل سے بھاگنے اور منشیات کا سہارالینے کے بجائے اس کا مقابلہ اور اس کو مینج کرناچاہیئے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوان ہی ہمارامستقبل اور اثاثہ ہیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے کر ہی آپ اس ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرسکتے ہیں۔محمد دانیال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی جوائن کریں اورلوکل گورنمنٹ کے الیکشن میں حصہ لیں اور مثبت تعمیر کام کے ذریعے ملک کی ترقی کا ذریعہ بنیں۔انسانی زندگی پر ماحول کا بہت گہرااثر ہوتاہے،اچھے اور صاف ستھرے ماحول کا انتخاب کریں۔
رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ منشیات سے جسمانی صحت کی بربادی کے ساتھ روح کا بے داغ اور شفاف آئینہ بھی غبار آلود ہوجاتا ہے۔نفسیاتی مسائل ایک اٹل حقیقت ہے، ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کو یہ ادراک نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرض کا شکار ہیں۔ہمیں معاشرتی رویہ کو تبدیل کرنا ہوگا، لوگوں کو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنا ہوگا اور ذہنی و نفسیاتی مسائل سے دوچار افراد کی آگے بڑھ کر مدد کرنی ہوگی تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آسکے۔
لیگل رائٹس فورم کی پروگرام مینجر شیرین اعجاز نے اپنے ادارے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہم مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے تواترکے ساتھ سیشنز کا انعقاد کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں مینٹل ہیلتھ پر بات کرنے کو معیوب سمجھاجاتاہے۔عارضی سکون کے لئے نشہ آورچیزوں کا استعمال زندگی بھر کے سکون کو بربادکرنے کا سبب بن جاتاہے۔ہمیں اس حوالے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ماہر نفسیات زہرہ شاہ نے مینٹل ہیلتھ، منشیات کے استعمال کی وجوہات سدباب اور اس کی روک تھام کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی اور اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیا۔
چیئرمین شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ نشہ دراصل زندگی کے چیلنجوں اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا نام ہے۔ بعض نوجوان نشہ کا سہارا لیتے ہیں کہ گویا یہی ان کے غموں، محرومیوں اور فکروپریشانی سے نجات کا واحد راستہ ہے،اس حوالے سے آگاہی کوفروغ دینے اور اس کے سدباب کے لئے حکومتی سطح پر سخت قوانین بنانے اور اس پر عملدرآمد کویقینی بنانے کے کی ضرورت ہے۔


