جھاڑ کھنڈ(ایچ آراین ڈبلیو)بھارت میں یورینیم کان کنی انسانی المیہ بن گئی: جڈوگورا کے قبائل بدترین زہریلی زندگی کا شکارریاست جھاڑکھنڈ کے علاقے جڈوگورا میں یورینیم کی کان کنی سے متاثرہ قبائلی آبادی بدترین انسانی المیے سے دوچار ہو چکی ہے۔ بھارتی میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کے صنعتی ترقی کے دعوے درحقیقت قبائلی انسانوں کی زندگیوں کی قیمت پر پورے کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جوہری طاقت کے پیچھے جڈوگورا کے وہ معذور بچے اور مرد و زن ہیں جنہیں تابکاری زدہ پانی، فضا اور مٹی نے موت اور معذوری کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے جھاڑکھنڈ کے قیمتی زمین اور وسائل کو اربوں کے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال تو کیا، مگر یہاں بسنے والے انسانوں کو بدترین بیماریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
جڈوگورا کے باسیوں کا کہنا ہے کہ یورینیم کی کانوں سے نکالا جانے والا فضلہ بے دریغ گاؤں میں پھینکا جاتا ہے۔ تابکاری سے آلودہ پانی نہانے اور پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں یہاں کے بچے اضافی اعضا، ذہنی معذوری اور جلدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
ہر تیسرا فرد معذوری کا شکار ہے،بچوں میں ٹی بی، کینسر اور دماغی بیماریوں کی شرح خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے-مزدور حفاظتی لباس کے بغیر تابکار مادہ سنبھالتے ہیں-فضلہ کھلے تالابوں میں پھینکا جاتا ہے-کوئی سرکاری طبی سہولت یا تحفظ دستیاب نہیں-
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اس انسانی بحران پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے “ترقی کی قیمت پر عوامی نسل کشی” قرار دے رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کو جھاڑکھنڈ میں یورینیم کان کنی کے غیر محفوظ اور غیر انسانی طریقہ کار پر فوری ایکشن لینا چاہیے۔
جڈوگورا کی کہانی بھارت کی سچائی کا وہ چہرہ ہے جو ایٹمی طاقت اور عالمی سرمایہ کاری کے پردے میں چھپایا جاتا رہا ہے۔ مودی حکومت کا “نیشن فرسٹ” نعرہ شاید ان معصوموں کے لیے نہیں جو زمین سے نہیں بلکہ زندہ لاشوں کے قبرستان سے پانی پیتے ہیں۔ اگر یہ بھارت کی ترقی ہے تو دنیا کو ایسی ترقی پر سوال اٹھانا ہو گا۔


