**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب ڈرون قبضے میں لے لیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق زیرِ آب گاڑی آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر نگرانی کی سرگرمیوں میں مصروف تھی اور اسے ایک مربوط کارروائی کے دوران قابو کیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جاسکے۔
ایرانی بیان میں ابتدائی طور پر زیرِ آب گاڑی کو **REMUS 600** قرار دیا گیا، تاہم بعد میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس کی شناخت **Mk 18 Mod 2 Kingfish** کے طور پر بھی کی گئی۔ اس کے باعث ڈرون کی حتمی شناخت سے متعلق ایرانی بیانات میں اختلاف سامنے آیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں قبضے میں لیے جانے والا دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں ایران نے ایک **Dive-LD** خودکار زیرِ آب گاڑی کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں امریکی حکام نے کہا تھا کہ مذکورہ ڈرون میں خرابی پیدا ہوگئی تھی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے موجودہ دعوے کی تردید کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق امریکا اپنے تمام فعال ڈرون اثاثوں کا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یوں ایرانی دعوے اور امریکی مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور امریکی ڈرون قبضے میں لیے جانے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز خلیج اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بحری نقل و حرکت اور توانائی کی ترسیل کو بھی عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی یا بحری واقعے کے ممکنہ اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی جہاز رانی، تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اس لیے متنازع فوجی دعوؤں کی رپورٹنگ میں آزادانہ تصدیق اور تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں، عملے اور دیگر غیر جنگجو افراد کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ایرانی حکام کے دعوے اور امریکی فوج کی جانب سے اس کی تردید کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ زیرِ آب ڈرون قبضے میں لیے جانے کے ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ ڈرون کی شناخت سے متعلق ایرانی بیانات میں بھی فرق رپورٹ ہوا ہے، اس لیے واقعے سے متعلق حتمی تفصیلات کو مزید آزادانہ تصدیق کا متقاضی سمجھا جائے۔


