10

نیو جرسی اسرائیل کو کیوں نہیں دے دیتے؟ احمد الشرع کا ٹرمپ سے مکالمہ

**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**شام کے صدر احمد الشرع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ایک سابقہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق گفتگو میں کیے گئے اپنے ایک مزاحیہ جملے کا ذکر کیا ہے۔

نیویارک میں اٹلانٹک کونسل کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران جب گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کا معاملہ زیرِ بحث آیا تو انہوں نے ٹرمپ سے مذاقاً کہا کہ اگر وہ اسرائیل کو زمین دینا چاہتے ہیں تو ’’نیو جرسی اسرائیل کو کیوں نہیں دے دیتے؟‘‘

احمد الشرع کے مطابق انہوں نے مزید مذاق کرتے ہوئے کہا کہ نیو جرسی میں ڈیموکریٹس کی تعداد زیادہ ہے اور وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیتے، اس لیے اسے اسرائیل کو دینا مناسب ہوگا۔

تاہم احمد الشرع نے واضح کیا کہ یہ گفتگو محض مذاق کے طور پر کی گئی تھی۔ ان کا سنجیدہ مؤقف یہ تھا کہ گولان کی پہاڑیاں کسی صدر کی ذاتی ملکیت نہیں کہ انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے کیا جاسکے۔

احمد الشرع نے اسی گفتگو میں شام اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ایک مرحلے پر تقریباً 90 فیصد امور پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم بعد میں پیش رفت رک گئی اور مزید شرائط سامنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ شام سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم شامی شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

گولان کی پہاڑیوں کی حیثیت ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی اور علاقائی تنازع کا موضوع رہی ہے۔ ایسے معاملات میں سفارتی مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ آبادی کے حقوق اہم عوامل ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو ان کے سیاق و سباق اور سرکاری یا سفارتی مؤقف کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات سے متعلق 90 فیصد اتفاق کا دعویٰ بھی احمد الشرع کی جانب سے بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے کسی حتمی امن معاہدے یا باضابطہ تصفیے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر احمد الشرع کے نیویارک میں دیے گئے بیان اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گولان کی پہاڑیوں کی قانونی و سیاسی حیثیت سے متعلق مختلف ریاستوں اور فریقین کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مذاکرات میں 90 فیصد اتفاق سے متعلق دعویٰ بھی شام کے صدر کے بیان پر مبنی ہے اور اسے حتمی معاہدہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں