**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے محکمہ داخلہ نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز تعینات کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔ درخواست میں رینجرز کی تعیناتی **5 اکتوبر** تک رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات اور پاکستان رینجرز آرڈیننس کے تحت طلب کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق سکیورٹی اقدامات کا مقصد احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ یہ معاملہ پنجاب کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و امن و امان کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات کے لیے پنجاب اور سندھ سے اضافی پولیس نفری بھی طلب کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ راولپنڈی ڈویژن اور اٹک میں بھی سکیورٹی انتظامات بڑھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اٹک میں تعینات پولیس اہلکاروں کی جانب سے ڈیوٹی کے دوران کھانے کی عدم فراہمی سے متعلق شکایت بھی سامنے آئی۔ تاہم راولپنڈی ریجن پولیس کے ترجمان نے ایسی شکایت کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورس کے لیے کھانے کا مناسب انتظام موجود ہے۔ بعد ازاں ایک اہلکار سے رابطے میں اس نے شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسئلہ سامنے آنے کے بعد کھانا فراہم کردیا گیا۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکام نے احتجاج کے دوران شہریوں کی آمدورفت، امن و امان اور حساس مقامات کی سکیورٹی کے لیے اضافی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پرامن سیاسی اجتماع اور اظہارِ رائے شہریوں کے آئینی حقوق میں شامل ہیں، تاہم احتجاج کے دوران دیگر شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، علاج معالجے اور روزمرہ زندگی کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے دوران قانون کے مطابق کارروائی، غیر ضروری رکاوٹوں سے گریز اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام اہم ہے۔ اسی طرح احتجاج کرنے والے افراد اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ پرامن طریقہ اختیار کریں اور عوامی املاک یا دوسرے شہریوں کے حقوق کو متاثر نہ کریں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پنجاب حکومت، سرکاری مراسلوں اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، احتجاج کے شرکاء کی تعداد اور دیگر انتظامی تفصیلات میں حالات کے مطابق تبدیلی ہوسکتی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو درپیش مبینہ کھانے کے مسئلے سے متعلق دعووں کے ساتھ متعلقہ پولیس ترجمان کا مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے؛ معاملے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔


