**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) میں ایک افسر کو بحالی کے باقاعدہ حکم کے بغیر اہم مالیاتی عہدے کی اضافی ذمہ داری سونپے جانے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کے ایم سی کے ہیومن ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق محمد سہیل احمد (BPS-18)، جو اس وقت ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، کو اپنے موجودہ عہدے کے ساتھ سینئر ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس کی اضافی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔ حکم نامے میں اس انتظام کو **”Stop-gap Arrangement”** قرار دیتے ہوئے مزید احکامات تک فوری طور پر نافذ قرار دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس حوالے سے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ مذکورہ افسر کے بارے میں ماضی میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں سمیت سرکاری اراضی سے متعلق معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کے ایم سی ایمپلائز ایکشن گروپ کا دعویٰ ہے کہ محمد سہیل کا نام متعدد مبینہ معاملات میں سامنے آچکا ہے، جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ان کا سروس ریکارڈ بھی طلب کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع اور ایکشن گروپ کے مطابق بس ٹرمینل، الٰہ دین پارک، کڈنی ہل پارک، جھیل پارک، عمر شریف پارک، سلاٹر ہاؤس اور بلدیہ ٹاؤن کاٹیج انڈسٹری سمیت مختلف مقامات سے متعلق زمین، نیلامی اور دیگر انتظامی معاملات میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
تاہم ان الزامات کی حتمی قانونی حیثیت ابھی طے ہونا باقی ہے اور کسی بھی فرد کی ذمہ داری یا قصور کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات اور عدالت کے فیصلے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق میونسپل کمشنر ابرار احمد جعفر کی جانب سے بھی محمد سہیل کے خلاف کارروائی اور معطلی سے متعلق اقدامات کیے گئے تھے۔ ایسے پس منظر کے بعد ان کی جانب سے کے ایم سی کے اہم مالیاتی شعبے کی ذمہ داری سنبھالنے کے حکم نے بعض افسران اور ملازمین میں تشویش پیدا کردی ہے۔
کے ایم سی ایمپلائز ایکشن گروپ نے نیب کو خط ارسال کرتے ہوئے معاملے کا نوٹس لینے، افسر کی تعیناتی اور مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات، سروس ریکارڈ کا جائزہ لینے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ملازمین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اندرونی آڈٹ سے وابستہ افسر کو بیک وقت فنانس اینڈ اکاؤنٹس کی اہم ذمہ داری دینا مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ اور شفافیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کے ایم سی میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں اور اضافی چارج دینے کا عمل قانون، قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے۔
**کراچی اسپیشل رپورٹ:** اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کسی افسر کے خلاف ماضی میں محکمانہ یا تحقیقاتی کارروائیاں زیرِ غور رہی ہوں تو اہم مالیاتی شعبے کی ذمہ داری سونپنے سے قبل متعلقہ ریکارڈ اور قانونی حیثیت کا مکمل جائزہ لیا گیا یا نہیں۔ کے ایم سی حکام اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کا مؤقف سامنے آنے سے معاملے کی مزید وضاحت ہوسکتی ہے۔
### HRNW کی اپیل
انسانی حقوق، احتساب اور عوامی مفاد سے متعلق صحافت کو جاری رکھنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ رپورٹ فراہم کردہ معلومات، ذرائع اور کے ایم سی ایمپلائز ایکشن گروپ کے دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بیان کردہ الزامات کی آزادانہ طور پر حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔ کسی بھی فرد کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں یا نامزد افراد کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔


