22

میرپورخاص میں مبینہ ڈبل تنخواہ کا معاملہ، محکمہ تعلیم کی خاتون افسر پر سوالات

**میرپورخاص (ایچ آراین ڈبلیو)** — میرپورخاص سے تعلق رکھنے والی پرائمری اسکول ٹیچر **کنزہ بختاور** کے حوالے سے مبینہ طور پر سرکاری تنخواہ اور ملازمت سے متعلق ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق کنزہ بختاور نے **2024 میں پرائمری اسکول ٹیچر کی ملازمت چھوڑ کر** سندھ کے محکمہ تعلیم کے **ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری** شعبے میں بطور **ٹاؤن افسر** ملازمت اختیار کی۔

تاہم الزام ہے کہ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے باوجود ان کی بطور پرائمری اسکول ٹیچر تنخواہ تاحال جاری ہے۔ اس حوالے سے **اگست 2026 کی مبینہ سیلری سلپ** اور نئے محکمے میں شمولیت کا **لیٹر** بطور دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔

اگر دستاویزات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو معاملہ سرکاری خزانے سے مبینہ طور پر ایسی تنخواہ کی ادائیگی کا بن سکتا ہے جس کے لیے متعلقہ ملازمت کی حیثیت اور حاضری کا ریکارڈ واضح کرنا ضروری ہوگا۔

متعلقہ محکمہ تعلیم اور دیگر حکام سے یہ وضاحت طلب کی جانی چاہیے کہ ملازمت تبدیل ہونے کے بعد سابقہ پوسٹ کی تنخواہ کس بنیاد پر جاری رہی، اور آیا پے رول ریکارڈ میں تبدیلی بروقت کی گئی تھی یا نہیں۔

### Human Angle

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں عوام کے ٹیکس سے ادا ہوتی ہیں۔ اگر کسی ملازم کو ایک عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی سابقہ پوسٹ کی تنخواہ جاری رہنے کا معاملہ ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

### HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزاد صحافت اور عوامی آگاہی کے ذریعے کام کرتا ہے۔

HRNW کے مشن کی حمایت کریں:

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور مبینہ دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ دستاویزات اور الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ متعلقہ خاتون افسر یا محکمہ تعلیم کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔ کسی بھی مالی بے ضابطگی کا حتمی تعین متعلقہ سرکاری تحقیقات یا قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں