23

جامعہ کراچی میں یومِ دفاع کی تقریب، قومی اتحاد کو دفاعی قوت کی بنیاد قرار دیا گیا

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**جامعہ کراچی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے اور یومِ دفاع کی مناسبت سے آفس آف دی ڈین، فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں تقریب منعقد ہوئی، جس کا عنوان **’’یومِ دفاع: ہماری سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت‘‘** تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ قومی اتحاد، باہمی اعتماد اور عوام و افواج کے درمیان یکجہتی ملک کی دفاعی قوت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی افواج ملک کے دفاع میں تنہا نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے، اور قومی یکجہتی دفاعی طاقت میں اضافے کا اہم ذریعہ ہے۔

بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ جنگ یا کشیدہ حالات کے دوران عوام کو دشمن کی سرگرمیوں اور زمینی حقائق سے باخبر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے بقول دشمن ذرائع ابلاغ کے ذریعے مخصوص بیانیہ تشکیل دے کر قوم میں اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ انہوں نے درست معلومات کی فراہمی اور مؤثر قومی بیانیے کی تشکیل پر زور دیا۔

انہوں نے بھارتی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور مختلف طبقات کے مابین اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کے لیے اتحاد اور یکجہتی کو بنیادی ضرورت قرار دیا۔

حارث نواز نے سائبر جنگ کے حوالے سے پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیشنل ڈیفنس فورس نے سائبر وارفیئر کے میدان میں مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی نظام اور دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا۔

اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ بری، بحری اور فضائی افواج، پاکستان رینجرز اور پولیس سمیت تمام سیکیورٹی اداروں نے ملک کے لیے عزم اور پیشہ ورانہ انداز میں خدمات انجام دی ہیں، جو قوم کے لیے باعثِ حوصلہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی دفاعی قوت صرف مسلح افواج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ عوام کا اپنی افواج کے ساتھ متحد اور پُرعزم ہونا بھی قومی طاقت کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق جب قوم اور افواج متحد ہوں تو ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

وائس چانسلر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں جس بھی شعبے کا انتخاب کریں، اسے صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ قومی خدمت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ انہوں نے طلبہ کو ’’میں کیوں کروں؟‘‘ کے بجائے ’’ملک کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں گا‘‘ کی سوچ اپنانے کی تلقین کی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے طلبہ کو اپنی تاریخ، قومی ہیروز اور ان کی قربانیوں سے آگاہ رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی خبر یا اطلاع کو آگے بڑھانے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کی جانی چاہیے اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

اے ایس پی جمشید ڈویژن محمد عاشر نے کہا کہ ملکی سرحدوں، عوام، قومی خودمختاری اور مستقبل کا دفاع مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہداء، پولیس، رینجرز، سیکیورٹی اداروں اور دیگر شہریوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور ایسا معاشرہ تشکیل دینے پر زور دیا جہاں ان قربانیوں کے مقاصد محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صرف سرحدوں کے دفاع سے وابستہ نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، قومی اداروں، معیشت، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں نوجوانوں کی قابلیت، دیانت داری اور کردار بھی ملک کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

قبل ازیں رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ کرنل حیدر عباس نے یومِ دفاع کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ تقریب میں یومِ دفاع اور افواجِ پاکستان سے متعلق مختلف دستاویزی فلمیں بھی پیش کی گئیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تعلیم، ذمہ دارانہ معلومات، قانون کی پاسداری اور شہری شعور کا فروغ بھی عوامی مفاد کا اہم حصہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایسی تقریبات نوجوانوں کو ملکی تاریخ اور قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ غیر مصدقہ معلومات سے بچنے اور ذمہ دار شہری کردار اپنانے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں مقررین کے بیانات اور دعوے ان کی جانب سے تقریب میں کیے گئے اظہارِ خیال کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ بالخصوص علاقائی یا سائبر جنگ سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ خبر کا مقصد تمام متعلقہ مؤقف کو ان کے اصل حوالوں کے ساتھ رپورٹ کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں