4

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر بحث کا دوسرا روز

**کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)** سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی تحریک التواء پر بحث دوسرے روز بھی جاری رہی، جس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تحریک التواء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن سمعتا افضال نے کہا کہ سندھ ہماری ریڈ لائن ہے، میں کراچی کی نمائندگی کرتی ہوں اور سندھ کی بیٹی ہوں۔

سمعتا افضال نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، سندھ میں بٹوارے کی بات نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بن جائیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک صوبے یا شہر کا نہیں بلکہ ریاستی انتظام اور عوامی مسائل کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے کہیں نہ کہیں ناانصافیوں کا ازالہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے معاملے کو سیاسی تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہی بلکہ عوام کو بہتر انتظامی سہولیات اور جوابدہ حکومت فراہم کرنے کی بات کر رہی ہے۔

افتخار عالم کا کہنا تھا کہ ایک شہری کو بنیادی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی حکومت ہونی چاہیے جو عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔ شہریوں کو فوری، شفاف اور جوابدہ طرز حکمرانی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن حسن علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی پورے سندھ کی نمائندگی کر رہی ہے اور نیا صوبہ بنانے کے لیے آئینی طور پر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کی تقسیم کسی صورت منظور نہیں۔

حسن علی شاہ نے کہا کہ سندھ جو ریونیو دیتا ہے وہ پورا وفاق لے کر جاتا ہے اور پیپلز پارٹی ہمیشہ اس معاملے کو اجاگر کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی اور یہ ایوان صوبے کی تقسیم کی اجازت نہیں دے گا۔

پی ٹی آئی کے رکن اویس احمد نے تحریک التواء پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نثار احمد کھوڑو نے یہ تحریک کیوں پیش کی؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس معاملے سے مختلف قومیتوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ کے عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے سے انارکی پیدا ہوسکتی ہے اور سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کے بجائے تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

فاروق اعوان نے کہا کہ وہ پنجابی بولنے والے سندھی ہیں اور ایوان میں پشتو، بلوچی اور اردو بولنے والے سندھی بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق سندھ پاکستان کی ضرورت ہے اور سندھ کے عوام کو متحد رہنا چاہیے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن دانیال احمد نے کہا کہ ان کی جماعت پورے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بات کر رہی ہے اور کسی نے سندھ کی جغرافیائی حدود تبدیل کرنے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کسی بھی قومیت سے تعلق رکھنے والا شخص وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن ندا کھوڑو نے کہا کہ نیا صوبہ صرف ایک نیا سیکریٹریٹ قائم کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی ادارے، قانون ساز اسمبلی، انتظامی بیوروکریسی اور مالی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام سے سیاسی نمائندگی، اثاثوں، واجبات اور وسائل سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوں گے، اس لیے صوبوں کی بحث کو سیاسی نعروں کے بجائے آئینی ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

ندا کھوڑو نے کہا کہ عوام تک اختیارات اور حکومت پہنچانے کا طریقہ آئین میں پہلے سے موجود ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام پہلے سے موجود ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اسے مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر مقصد اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے تو آرٹیکل 140 اے پر مکمل عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے پہلے موجودہ آئینی اور بلدیاتی نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانا ضروری ہے۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ براہِ راست عوامی نمائندگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، انتظامی سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ ایسے اہم معاملات پر فیصلہ سازی میں عوامی رائے، آئینی تقاضوں اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

انتظامی اصلاحات کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ہونا چاہیے، جبکہ سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا عوامی مفاد میں ہے۔

### HRNW Support Appeal

ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد، جمہوری اقدار اور آزاد صحافت سے متعلق آواز کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کی معاونت اس مشن کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

**HRNW کی معاونت کے لیے:**

Support Us

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور دستیاب میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں مختلف سیاسی جماعتوں اور ارکان کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف ان کے اپنے سیاسی و پارلیمانی بیانات ہیں۔ HRNW کسی سیاسی جماعت یا فرد کے مؤقف کی توثیق نہیں کرتا۔ کسی بھی معاملے کی حتمی آئینی اور قانونی حیثیت متعلقہ قوانین، عدالتی فیصلوں اور مجاز اداروں کی کارروائی سے طے ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں