4

سی ویو کراچی پر اسٹنگ رے نسل کی مچھلیاں ماہی گیروں کے جال میں آگئیں

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — کراچی کے ساحلِ سمندر **سی ویو** پر ماہی گیروں کے جال میں اسٹنگ رے نسل کی مچھلیاں آگئیں۔ یہ شکار گذری سے تعلق رکھنے والے ان ماہی گیروں نے کیا جو بغیر لانچ کے جال کے ذریعے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔

اسٹنگ رے کو مقامی زبان میں **آرا مچھلی** بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مچھلیاں سمندری ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور پاکستان کے ساحلی و کھلے سمندری علاقوں میں جال کے ذریعے پکڑی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسٹنگ رے مچھلی کو روایتی طور پر **پولٹری انڈسٹری کے لیے مچھلی سے تیار ہونے والے چارے** میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ تقریباً 10 سال سے ان مچھلیوں کے پَر منجمد حالت میں **تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا** بھی برآمد کیے جا رہے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً **10 ہزار میٹرک ٹن اسٹنگ رے** پکڑی جاتی ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق پاکستان کے ساحل پر عام طور پر اسٹنگ رے کی تقریباً **38 مختلف اقسام** پائی جاتی ہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

سمندری حیات ساحلی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔ مچھلی کے شکار اور سمندری وسائل کے استعمال میں پائیدار طریقوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ ماہی گیروں کے روزگار کے ساتھ سمندری حیات اور ماحول کا بھی تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے HRNW کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے: [HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سمندری حیات، شکار اور برآمدات سے متعلق اعداد و شمار کی حتمی تصدیق متعلقہ ماہرین اور سرکاری اداروں کے ریکارڈ سے کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں