**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** عالمی ثالثی عدالت نے **سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty)** کی یک طرفہ معطلی سے متعلق بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پیش کی گئی کوئی بھی وجہ معاہدے کی **معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی**۔
ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس کی حیثیت کو کسی ایک فریق کی جانب سے یک طرفہ اقدام کے ذریعے ختم یا معطل نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے فریقین کو طے شدہ قانونی ذمہ داریوں اور طریقۂ کار کی پاسداری کرنا ہوگی۔
یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے وسائل سے متعلق جاری تنازع میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو
پانی انسانی زندگی اور بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے۔ دریاؤں اور آبی وسائل سے متعلق تنازعات کا حل **بین الاقوامی قانون، شفاف مذاکرات اور پرامن طریقۂ کار** کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے پانی اور بنیادی ضروریات سے متعلق مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، عالمی انصاف اور عوامی مفاد کے اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر ثالثی عدالت کے فیصلے سے متعلق فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فیصلے کی مکمل قانونی تشریح اور اس کے عملی اثرات متعلقہ قانونی دستاویزات اور سرکاری بیانات کی روشنی میں مزید واضح ہوں گے۔


