3

ہمدرد ہسپتال نے نومولود بچے کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی وضاحت جاری کردی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**ناظم آباد میں واقع ہمدرد یونیورسٹی ہاسپٹلز نعمت بیگم نے 27 اگست کو پیش آنے والے مبینہ نومولود بچے کے لاپتہ ہونے کے واقعے سے متعلق وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زیرِ بحث مریضہ کے ہاں ہمدرد ہسپتال میں کوئی ولادت نہیں ہوئی۔

ہمدرد ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈ اور دستیاب رپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون نہ تو حاملہ تھی اور نہ ہی ہمدرد ہسپتال میں اس کے بچے کی پیدائش ہوئی۔

ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کا معاملہ فی الحال متعلقہ حکام کے زیرِ تفتیش ہے اور ہمدرد ہسپتال تحقیقات میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔ ہسپتال کی جانب سے تمام متعلقہ ریکارڈ اور ضروری معلومات حکام کو فراہم کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق سامنے آنے کی امید ہے۔ ہمدرد ہسپتال نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور تفتیشی عمل کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہونے دیا جائے۔

ترجمان کے مطابق ہمدرد یونیورسٹی اور اس کے تمام ادارے اپنے بانی حکیم محمد سعید کے خود احتسابی اور ذمہ داری کے اصولوں پر آج بھی قائم ہیں۔

### انسانی حقوق کا پہلو

بچے اور والدین سے متعلق کسی بھی معاملے میں سچائی، شفاف تحقیقات، رازداری اور قانونی حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ زیرِ تفتیش واقعے میں تمام فریقین کے مؤقف کو غیرجانبدارانہ طور پر جانچنا اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی فرد یا ادارے کو قصوروار قرار دینے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

### HRNW سپورٹ اپیل

ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، شفاف تحقیقات اور عوامی مفاد سے متعلق خبروں کو اجاگر کرنے کے لیے آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

یہ خبر ہمدرد یونیورسٹی، کراچی کی میڈیا کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ مؤقف ہمدرد ہسپتال کا مؤقف ہے۔ واقعے کی حتمی حقیقت متعلقہ حکام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں