کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** آئی جی سندھ **جاوید عالم اوڈھو** کی زیرِ صدارت سندھ پولیس کے شعبہ **اے وی ایل سی (اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل)** کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی و آپریشنز، ڈی آئی جیز اسٹیبلشمنٹ و ہائی وے پیٹرول یونٹ، ایس ایس پی اے وی ایل سی، اے آئی جیز آپریشنز، ایڈمن، پروجیکٹ ڈائریکٹر آئی ٹی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء کو ایس ایس پی اے وی ایل سی کی جانب سے شعبے کی مجموعی کارکردگی، مختلف اقدامات اور گاڑیوں کی برآمدگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ہدایت کی کہ **چوری شدہ گاڑیوں کے پرزہ جات اور سامان کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔**
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی چوری میں ملوث منظم گروہوں، سہولت کاروں اور چوری شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف **بلاامتیاز قانونی کارروائی** کی جائے۔
آئی جی سندھ نے سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول یونٹ، سیف سٹی اور اے وی ایل سی کے درمیان باہمی رابطوں اور کوآرڈی نیشن کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام اور اے وی ایل سی کی استعدادِ کار کو باہم مربوط کرکے چوری و چھینی گئی گاڑیوں کی برآمدگی کے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔
آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کی چوری کے مقدمات کی تفتیش میں **معیار، رفتار اور شفافیت** کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ بروقت برآمدگی کے لیے پولیس کے مختلف شعبوں کے درمیان معلومات کے مؤثر تبادلے کا نظام بھی تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے اے وی ایل سی کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے ضلعی سطح سے مرکزی سطح تک مؤثر مانیٹرنگ اور فالو اَپ کا نظام وضع کرنے کی ہدایت کی۔
### انسانی حقوق کا پہلو
جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے مال و املاک کا تحفظ ریاستی اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ گاڑیوں کی چوری کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ **قانونی طریقۂ کار، شفاف تفتیش، شہریوں کے بنیادی حقوق اور زیرِ تفتیش افراد کے قانونی حقوق** کا احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ گاڑیوں کی چوری، غیر قانونی خرید و فروخت یا مشکوک سرگرمیوں سے متعلق معلومات متعلقہ پولیس حکام کو فراہم کریں تاکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مدد مل سکے۔
### Disclaimer
یہ خبر سندھ پولیس کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف الزام کی حتمی تصدیق متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگی۔


