10 کروڑ روپے تاوان کے لیے ایبٹ آباد سے اغواء کیے گئے 12 سالہ بچے کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا، تین ملزمان گرفتار
اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** تھانہ ترنول پولیس ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اغواء برائے تاوان کی بڑی واردات ناکام بنا دی اور ایبٹ آباد سے مبینہ طور پر اغواء کیے گئے 12 سالہ عبداللہ ابراہیم کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق بچے کے اغواء میں مبینہ طور پر ملوث مرکزی ملزم، جو مغوی بچے کا چچا زاد بتایا گیا ہے، سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق چیکنگ کے دوران ایک گاڑی کی پچھلی نشست پر 12 سالہ بچہ خوف زدہ حالت میں موجود پایا گیا۔ پولیس اہلکاروں کو شک ہونے پر مزید پوچھ گچھ کی گئی اور بچے کو اعتماد میں لیا گیا۔
بچے نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایبٹ آباد سے اغواء کرکے لایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم بچے کے والد سے مبینہ طور پر **10 کروڑ روپے تاوان** کا مطالبہ کر رہا تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا کے مطابق ترنول پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو محفوظ تحویل میں لے لیا اور مرکزی ملزم سمیت تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مؤثر چیکنگ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بروقت رسپانس کے باعث اغواء برائے تاوان کی سنگین واردات کو ناکام بنایا گیا۔
بچے کے والدین نے اپنے بیٹے کی بحفاظت بازیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کیا۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کے مطابق شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
بچے کا اغواء انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور اس کی آزادی و تحفظ پر حملہ ہے۔ بچوں کو اغواء، تشدد اور استحصال سے محفوظ رکھنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بازیاب ہونے والے بچے کی جسمانی و ذہنی کیفیت کا خیال رکھتے ہوئے اسے ضروری تحفظ اور معاونت فراہم کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔
### HRNW Support Appeal
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** عوام سے اپیل کرتا ہے کہ بچوں کے اغواء یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ پولیس اور قانونی اداروں کو اطلاع دیں۔ شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور متاثرہ بچے یا خاندان کی شناخت اور نجی معلومات کو غیر ضروری طور پر عام کرنے سے گریز کریں۔
### Disclaimer
یہ خبر پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد پر عائد الزامات کو حتمی جرم ثابت ہونے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ ملزمان کی قانونی حیثیت اور جرم کا حتمی تعین متعلقہ عدالت کی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔


