کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) جماعت اسلامی کے اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل، سیف الدین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں اسکول بس پر حملہ اور بچوں کی شہادت بدترین دہشت گردی ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ وزیر داخلہ سندھ کے گھر کو مظاہرین نے آگ لگا دی۔ سندھ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔
آئینِ پاکستان بلدیاتی اختیارات بلدیاتی اداروں کو فراہم کرتا ہے۔ سپریم کورٹ بھی ترقیاتی اداروں کو بلدیاتی اداروں کے ماتحت قرار دے چکی ہے۔کراچی میں پیپلز پارٹی کا ناکام وژن واضح نظر آ رہا ہے۔
شہر میں پانی کی قلت ہے۔ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل دیے جانے چاہیئے تھے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
اختیارات دینے کے بجائے سندھ حکومت نے وسائل پر قبضہ کر لیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کے ڈی اے اور سالڈ ویسٹ جیسے ادارے سندھ حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
اربوں روپے کے ٹھیکے نجی پارٹیوں کو دیے جا رہے ہیں۔ شہر میں ترقیاتی کام کے ایم سی یا ٹی ایم سی کے ذریعے ہی کیے جاتے ہیں۔ سندھ حکومت نے بلدیاتی نمائندوں سے مشاورت کے بغیر اربوں روپے کی اسکیمیں شروع کر دیں۔
جعلی منصوبوں کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔ارکانِ اسمبلی کو فنڈز کی صورت میں رشوت دی جا رہی ہے۔ پی آئی ڈی سی ایل کے ذریعے ترقیاتی فنڈز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق فنڈز بلدیاتی اداروں کے ذریعے استعمال کیے جانے چاہئیں۔ اگر کراچی میں صرف پچاس فیصد فنڈز بھی درست انداز میں استعمال ہو جائیں تو شہر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے فنڈز فراہم کرتے ہیں، مگر وہ شہر میں استعمال ہوتے نظر نہیں آتے۔ کے فور منصوبے پر سندھ حکومت کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پانی کی لائنوں کی مرمت کے نام پر شہریوں کو مزید پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پانی کی فراہمی روکی جا رہی ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ بلدیاتی اختیارات بلدیاتی اداروں کو دیے جائیں۔


