9

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کا یوفون میں انضمام منظور کرلیا

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):**اسلام آباد ہائی کورٹ نے **ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ** کے **پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون)** میں انضمام کی منظوری دے دی ہے۔

جسٹس **خادم حسین سومرو** نے درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹیلی نار پاکستان کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو منتقل ہو جائیں گے، جبکہ ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ مزید کسی کارروائی کے بغیر تحلیل شدہ تصور کی جائے گی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار فیصلے کی تصدیق شدہ نقل **رجسٹرار سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)** کے پاس جمع کرائیں، جبکہ رجسٹرار اسکیم پر عملدرآمد کے لیے قانون کے مطابق ضروری اقدامات کریں۔

عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار انضمام کی اسکیم کے نفاذ سے متعلق تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے مکمل کریں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹیلی نار پاکستان کو تمام اثاثوں اور واجبات سمیت پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ میں ضم کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کمپنیوں کے انضمام سے متعلق معاملات میں عدالت کا اختیار نگران نوعیت کا ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں۔

عدالت نے ریکارڈ اور انضمام کی اسکیم کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ **کمپنیز ایکٹ 2017** کی تمام متعلقہ شرائط پوری کی گئی ہیں۔ عدالت کے مطابق مجوزہ اسکیم عوامی مفاد کے خلاف نہیں بلکہ منصفانہ اور قانونی ہے۔

اسی بنیاد پر عدالت نے کمپنیز ایکٹ 2017 کی متعلقہ شقوں کے تحت ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے انضمام کی منظوری دے دی۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

شفاف کاروباری نظام، قانونی آگاہی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر عدالتی فیصلے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ انضمام کے عملی نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کی جا سکتی ہیں۔ HRNW غیرجانبدارانہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں