**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):**سپریم کورٹ میں **نیب ترامیم کے بعد زیرِ التوا اپیلوں کے عدالتی فورم کے تعین** سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق وزیراعظم **عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر نیب مقدمات** سے متعلق اپیلوں اور ضمانت کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
جسٹس **محمد علی مظہر** کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس **مسرت ہلالی** اور جسٹس **شاہد بلال حسن** بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اگر ہائیکورٹ نیب کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دے تو اس کے خلاف اپیل کون سا فورم سنے گا؟
اٹارنی جنرل **منصور عثمان اعوان** نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت اور اپیل دو الگ قانونی سوالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضمانت دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے اور عدالت ریکارڈ کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کیسز میں اپیل بنیادی حق ہے اور حالیہ ترامیم کے ذریعے اپیل کا فورم **وفاقی آئینی عدالت** کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپیل کا حق ختم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ **آرٹیکل 175 ایف ٹو** کے تحت سپریم کورٹ میں زیرِ التوا بعض مقدمات خودکار طور پر آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں، جبکہ نیب ترمیمی قانون مارچ 2026 میں نافذ ہوا اور اس میں ترامیم کے اطلاق سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب ترمیمی ایکٹ 2026 کے تحت اپیل کا حق وفاقی آئینی عدالت کو دیا گیا ہے اور ضمانت و اپیل کے فورمز الگ الگ نہیں ہونے چاہئیں۔
نیب وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کیسز میں ضمانت اور اپیل دونوں کا فورم ایک ہی ہونا چاہیے، تاہم بعض اوقات عدالتیں ضمانت کی درخواستوں میں مقدمے کے میرٹس پر بھی بحث کرتی ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب کے تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو چکے ہیں، جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ ابھی کیسز منتقل نہیں ہوئے۔
بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت **16 جولائی صبح ساڑھے گیارہ بجے** تک ملتوی کر دی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 16 جولائی کو ان کا دو رکنی بینچ موجود ہوگا اور اس کیس کے لیے چیف جسٹس پاکستان سے خصوصی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی جائے گی۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
قانون کی بالادستی، انصاف، احتساب اور ذمہ دار عدالتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر عدالتی کارروائی، وکلا کے دلائل اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مقدمے سے متعلق حتمی فیصلہ عدالت کے حکم کے بعد ہی واضح ہوگا۔ HRNW غیرجانبدارانہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


