**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** – لاہور ہائیکورٹ نے ایک کریانہ اسٹور کو سیل کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اختیار قانونی کارروائی تک محدود ہے اور بادی النظر میں ادارہ کسی کاروباری مقام کو سیل کرنے کا مجاز نہیں۔
دورانِ سماعت عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فوڈ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسٹور کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے، بصورت دیگر عدالت خود مناسب قانونی حکم جاری کرے گی۔
دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ کریانہ اسٹور سے غیر معیاری اور زائدالمعیاد اشیائے خور و نوش برآمد ہوئی تھیں، جن میں ناقص ہلدی اور مرچیں بھی شامل تھیں۔ ادارے کے مطابق اسی بنیاد پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ سماعت پر سنائے جانے کا امکان ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اختیارات، کاروباری اداروں کے قانونی حقوق اور ریگولیٹری اداروں کی کارروائی کے دائرہ کار کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
—
**🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
**⚠️ ڈسکلیمر**
یہ خبر عدالت میں ہونے والی کارروائی اور دستیاب عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ ابھی جاری نہیں کیا گیا، لہٰذا اس خبر میں بیان کیے گئے عدالتی ریمارکس ابتدائی سماعت کے تناظر میں ہیں۔ HRNW غیرجانبدار صحافتی اصولوں کے تحت حتمی عدالتی فیصلے کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


