**کراچی (HRNW):** سندھ ہائی کورٹ میں وکیل **بیرسٹر علی طاہر** کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہیں دہشت گردی کے ایک مقدمے میں مبینہ طور پر مفرور قرار دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے آئندہ سماعت تک درخواست گزار کے خلاف **کوئی بھی سخت یا تادیبی اقدام** نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ **تفتیشی افسر** کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں **تین تلوار پر ہونے والے احتجاج** سے متعلق درج مقدمے میں پولیس نے مفرور قرار دے دیا ہے، حالانکہ اس سے قبل عدالت ان کی گرفتاری سے روک چکی تھی۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کو پہلے گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا، جس پر بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ گرفتاری سے روکا گیا، تاہم پولیس نے بعد ازاں انہیں مقدمے میں مفرور قرار دے دیا۔
درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کسی شخص کو اشتہاری یا مفرور قرار دینے کی کارروائی کے نتیجے میں اس کا **شناختی کارڈ بلاک** کیا جا سکتا ہے یا اس کا نام **ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL)** میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بیرسٹر علی طاہر نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ وہ **پاکستان تحریک انصاف (PTI)** سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق جس روز کے واقعے میں انہیں نامزد کیا گیا، وہ اس مقام پر موجود ہی نہیں تھے، جبکہ ان کے خلاف کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا جائے اور مبینہ ہراسانی کا سلسلہ روکا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی فوجداری مقدمے میں ملزم کو منصفانہ سماعت، قانونی تحفظ اور آئین کے تحت دستیاب بنیادی حقوق حاصل ہیں، جبکہ مقدمے میں کیے گئے الزامات کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفاف انصاف، بنیادی آزادیوں اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور درخواست گزار کے عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مقدمے میں شامل تمام الزامات تاحال عدالت سے ثابت نہیں ہوئے۔ HRNW غیرجانبدارانہ صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت کرے گی۔


