**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائی کورٹ میں **جیکسن تھانے کے ایس ایچ او عنایت اللہ خان** کی جانب سے ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ بعض افراد کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی مہم چلانے اور پولیس کارروائیوں میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد **ایڈووکیٹ جنرل سندھ** اور **پراسیکیوٹر جنرل سندھ** کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے **14 ستمبر** تک جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سندھ ہائی کورٹ اور اعلیٰ پولیس حکام کی ہدایات پر **جیکسن پولیس** نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر منشیات فروش عناصر اور بعض افراد نے، جنہیں درخواست میں “نام نہاد صحافی” قرار دیا گیا ہے، پولیس کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت مہم شروع کر دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف **واٹس ایپ گروپس** اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پولیس کے خلاف مبینہ طور پر غلط معلومات اور خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، جن کی بنیاد پر **ڈی آئی جی ساؤتھ** نے درخواست گزار اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کے باعث مبینہ طور پر ہونے والی بلیک میلنگ اور ہراسانی کا نوٹس لیا جائے اور **ڈی آئی جی ساؤتھ** کو درخواست گزار کے خلاف مزید کارروائی سے روکا جائے، جب تک کہ عدالت اس معاملے پر فیصلہ نہ کر دے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں دائر درخواست میں کیے گئے تمام الزامات کی جانچ عدالتی کارروائی اور متعلقہ فریقین کے جوابات کی روشنی میں ہوگی، جبکہ اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ دونوں کا تحفظ آئین اور قانون کے مطابق ضروری ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، قانون کی حکمرانی، شفاف حکمرانی اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر عدالت میں دائر درخواست اور عدالتی کارروائی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ درخواست میں شامل الزامات تاحال عدالت یا کسی مجاز ادارے سے ثابت نہیں ہوئے۔ HRNW تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق تسلیم کرتا ہے اور غیرجانبدارانہ صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ عدالتی فیصلے تک معاملہ زیرِ سماعت تصور کیا جائے۔


