16

صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں پولیس سیکیورٹی ونگ میں مبینہ کرپشن سے متعلق شکایت، ایڈیشنل آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں سندھ پولیس کے سیکیورٹی ونگ میں مبینہ بدعنوانی اور پولیس اہلکاروں کو بااثر شخصیات، بلڈرز اور دیگر افراد کی غیر قانونی سیکیورٹی پر تعینات کیے جانے سے متعلق دائر شکایت پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے **ایڈیشنل آئی جی سندھ** سے **23 جولائی** تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

درخواست گزار **غلام اکبر جتوئی ایڈووکیٹ** نے عدالت میں براہِ راست شکایت دائر کرتے ہوئے **ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود میمن، ایس پی سیکیورٹی ون محمود راجپوت** سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا ہے۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریباً **100 پولیس اہلکاروں** کو مبینہ طور پر بااثر شخصیات، بلڈرز اور دیگر بااثر حلقوں کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ان تعیناتیوں کے عوض ہر اہلکار سے مبینہ طور پر **25 ہزار سے ایک لاکھ روپے** تک غیر قانونی رقم وصول کی جاتی ہے۔ شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض اہلکاروں کو **25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ** دے کر سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر رکھا جاتا ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں انہیں ڈیوٹی پر موجود ظاہر کیا جاتا ہے۔

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ **ایس پی سیکیورٹی محمود راجپوت** اور **ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود میمن** مبینہ طور پر ان تعیناتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ **ان الزامات پر نامزد افسران کا مؤقف تاحال عدالت کے ریکارڈ پر سامنے نہیں آیا۔**

عدالت کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹ کے بعد آئندہ سماعت پر مقدمے کی مزید کارروائی متوقع ہے۔

گورننس اور احتساب کے ماہرین کے مطابق سرکاری وسائل، پولیس فورس اور عوامی اداروں کے استعمال سے متعلق تمام معاملات میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور قانون کے مطابق احتساب عوامی اعتماد کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ کسی بھی الزام کا حتمی تعین متعلقہ عدالت یا مجاز تحقیقاتی ادارے کی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، احتساب، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر عدالت میں دائر شکایت، عدالتی کارروائی اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ شکایت میں شامل تمام الزامات تاحال عدالت یا کسی مجاز تحقیقاتی ادارے سے ثابت نہیں ہوئے۔ نامزد افراد قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک کسی عدالت کی جانب سے ان کے خلاف فیصلہ صادر نہ ہو۔ HRNW غیرجانبدارانہ صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں