14

شہری کو جیل کے باہر سے حراست میں لینے پر سی سی ڈی افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) لاہور ہائیکورٹ نے جیل سے رہائی پانے والے ایک شہری کو مبینہ طور پر جیل کے باہر سے حراست میں لینے کے معاملے پر سی سی ڈی افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس امجد رفیق نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ دستیاب ویڈیو شواہد کے مطابق سی سی ڈی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں تضاد پایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں غلط رپورٹ جمع کرانا اور کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا جرم ہے۔

عدالت نے ڈی پی او اوکاڑہ کو ہدایت کی کہ متعلقہ افسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

درخواست گزار مقصودہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گلفام علی کو 27 جون 2026 کو جیل سے رہائی ملی، تاہم جیل سے باہر نکلتے ہی سادہ لباس میں ملبوس افراد نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔

عدالتی حکم پر سی سی ڈی انسپکٹر ڈیفنس لاہور اختر علی نے رپورٹ جمع کرائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گلفام علی کو اوکاڑہ میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے رپورٹ میں موجود تضادات پر متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں