کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل (نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل / NCEAC) کے ریکارڈ کے مطابق سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس سمیت آئی ٹی کے متعدد پروگرامز تاحال منظور شدہ (Accredited) نہیں ہیں۔
این سی ای اے سی کے مطابق یونیورسٹی کا آخری نیا منظور شدہ کمپیوٹنگ پروگرام آرٹیفیشل انٹیلیجنس تھا، جسے 2024 میں ایکریڈیشن دی گئی۔ اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مزید پروگرامز کی منظوری کے لیے کوئی نئی پیش رفت ریکارڈ پر موجود نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکنِ سندھ اسمبلی نے بھی ان پروگرامز کی عدم منظوری پر یونیورسٹی انتظامیہ سے وضاحت طلب کی تھی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جواب میں بعض پروگرامز کی منظوری کے لیے 2025 کی ڈیڈ لائن کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے عوامی شکایات کے بعد ملک بھر کی 44 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلے عارضی طور پر معطل کیے ہیں، جس کے بعد غیر منظور شدہ پروگرامز کے مستقبل پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔


