28

18 سال میں 2500 ارب خرچ، پھر بھی سندھ کے سرکاری اسپتال بنیادی سہولیات سے محروم، فوزیہ صدیقی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ گزشتہ 18 سالوں کے دوران سندھ کے محکمہ صحت پر 2500 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے، لیکن آج بھی سرکاری اسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لیے صحت کے شعبے میں 393 ارب روپے مختص کرنا کافی نہیں، عوام کو ان فنڈز کے عملی نتائج بھی نظر آنے چاہئیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ عوام کو بتائیں کہ صحت کے نام پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا حساب کون دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات، بستروں، طبی آلات اور طبی عملے کی شدید کمی حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو کی نااہلی کے باعث عوام کو علاج کے لیے دربدر ہونا پڑ رہا ہے جبکہ سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور دیگر ضروری ادویات کی عدم دستیابی انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث 15 سے 16 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ شہری اسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ویکسین لگوانے کے باوجود جاں بحق ہونے والے شہریوں کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر صحت کے شعبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں تو پھر سرکاری اسپتال این جی اوز کے حوالے کیوں کیے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے صرف اعداد و شمار کا سہارا لے رہی ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ سندھ میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز صحت کے نظام کی ناکامی اور حکومتی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لاڑکانہ سمیت مختلف اضلاع میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے کیسز فوری ہنگامی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں اور اس بحران پر قابو نہ پانا سندھ حکومت کی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو مفت اور معیاری علاج فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔ اگر صحت کے لیے مختص فنڈز شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے تو سندھ کے ہر شہری کو معیاری طبی سہولیات میسر ہوتیں۔ سندھ حکومت صحت کارڈ جیسی مؤثر سہولت فراہم کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی ہر تقریر میں NICVD کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن NICVD سمیت صحت کے بڑے منصوبوں میں بھی اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو علاج، ادویات اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے اور پاکستان تحریک انصاف سندھ میں صحت کے نظام کی تباہی، بدانتظامی اور ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے بحران پر خاموش نہیں رہے گی۔

فوزیہ صدیقی نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے عوام کو صحت کے بجٹ کا مکمل حساب دیا جائے اور انہیں بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں