22

سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی ضمنی بجٹ اور اضافی اخراجات پر شدید تنقید

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ضمنی بجٹ اور اضافی اخراجات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سندھ حکومت کی مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ حکومت نے 273 ارب روپے سے زائد اخراجات کیے، جس کے بعد اضافی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ضمنی بجٹ پیش کیا گیا، جو بجٹ مینجمنٹ کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے 10 ارب روپے اضافی خرچ کیے، جبکہ محکمہ بلدیات نے 6 ارب روپے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے 13 ارب روپے سے زائد اخراجات کیے، جو تشویشناک امر ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ دیگر صوبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں آئی ٹی پارک کے لیے فنڈز مختص کیے گئے، جو سندھ کے وسائل باہر منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضمنی بجٹ میں سیاسی شرارت کی گئی ہے۔

علی خورشیدی نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب حکومت نے سندھ میں کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کیا؟ اگر نہیں، تو پھر سندھ کے وسائل دیگر صوبوں میں کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے 15 ارب روپے حاصل کیے، تاہم اس کے باوجود گزشتہ دو سال سے سندھ حکومت کو ترقیاتی فنڈز مکمل طور پر فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث ترقیاتی کام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

آخر میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے اور شفاف مالی پالیسی کے بغیر صوبے کی معاشی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں