28

پاکستان ایک بڑا اور خود مختار ملک ہے، کسی کا تابع نہیں، روسی صدر ولادیمیر پوتن کا بھارتی صحافی کو کرارا جواب

**ماسکو (ایچ آراین ڈبلیو)** – روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سینٹ پیٹرز برگ اکنامک فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے گودی میڈیا کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان مخالف سوال پوچھنے پر بھارتی صحافی کو لاجواب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک بڑا اور خود مختار ملک ہے جو کسی کا تابع نہیں ہے۔

بین الاقوامی اور علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے مختلف عالمی مسائل پر روس کا موقف تفصیل سے پیش کیا:

### پاک، ایران اور امریکہ تعلقات

* روسی صدر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران جلد کسی مثبت سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔
* انہوں نے واضح کیا کہ روس بھی امریکہ اور ایران کے درمیان پرامن معاہدے کا خواہاں ہے۔

### پاک چین اور پاک بھارت تعلقات پر روسی موقف

* ولادیمیر پوتن نے چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس نے چین کے ساتھ ہمیشہ فوجی میدان میں تعاون کیا ہے اور ایسا کرنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کسی کے خلاف نہیں بلکہ باہمی مفادات کے لیے ہے، کیونکہ چین اور روس کے مفادات یکساں ہیں۔
* بھارتی صحافی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کبھی بھی روس اور بھارت کے روایتی تعلقات میں رکاوٹ نہیں بنے، اور روس بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینا جاری رکھے گا۔

### یوکرین جنگ اور امن معاہدے کی پیشکش

یوکرین کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ روسی افواج یوکرین میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں اور روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2440 مربع کلومیٹر کا علاقہ اپنے کنٹرول میں لیا ہے، جبکہ لوہانسک پر روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔

* انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی فوج کا سب سے بڑا مسئلہ عملے اور سپاہیوں کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے یوکرین اپنے علاقے کھو رہا ہے اور اسے میزائلوں و دیگر اسلحے کی قلت کا بھی سامنا ہے۔
* صدر پوتن نے امن کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ روس اب بھی ڈونباس کے علاقے کا کنٹرول حاصل کر کے امن معاہدہ کر سکتا ہے اور وہ یوکرین کے ساتھ پرامن طریقے سے معاملات حل کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اب یوکرین کو بھی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔
* انہوں نے مزید بتایا کہ الاسکا کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سمجھوتوں کی بات کی تھی، روس اس کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔

### یورپی ممالک اور توانائی کی فراہمی

* صدر پوتن نے انکشاف کیا کہ روسی اور یورپی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔
* جرمنی کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جرمنی کو نورد اسٹریم (Nord Stream) کے ذریعے روسی گیس کی فراہمی پر خود فیصلہ کرنا ہوگا، روس جرمنی کو گیس فراہم کرنے کے لیے آج بھی تیار ہے۔

**انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں – ہمارے مشن کا حصہ بنیں!**

انسانی حقوق کے عالمی پورٹل **HRNW** کی معاونت کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے اپنا تعاون پیش کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں