56

کے بی اینڈ‌ ٹی پی آر میں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں عدالت ماسٹر پلان اتھارٹی پر برہم

کراچی (ایچ‌آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ میں آج کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کا ماسٹر پلان اتھارٹی حکام پر اظہار برہمی

عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر جواب جمع نا کروایا گیا تو سینیئر ڈائریکٹر پیش ہوں، عدالتی آرڈر کے بعد بھی اگر وہ پیش نہیں ہوئے تو ہم حکم جاری کردیتے ہیں،

ماسٹر پلان اتھارٹی کے وکیل کی جواب کے لئے مہلت کی استدعا پر عدالت نے کہا کہ آپ حلف نامہ دیدیں کہ موجودہ حیثیت برقرار رکھیں گے تو سماعت ملتوی کردینگے،

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ماسٹر پلان تھارٹی کا جواب ضروری ہے، وہ بتا سکتے ہیں شہر میں کتنے اسکول یا اسپتال ہیں،

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہاں ترمیم کی قانونی حیثیت دیکھنی ہے، ہمارے پاس کیس یہ ہے کہ قانون میں ترمیم صحیح ہے یا غلط ہے،

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس بی سی اے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں ترمیم کی ہے، ترمیم کے ذریعے رفاحی پلاٹ کی تعریف تبدیل کی گئی ہے، رفاحی پلاٹ اصل مقاصد کے علاوہ استعمال نہیں ہوسکتا، صحت کی فراہمی کو رفاحی پلاٹ کے استعمال کی تعریف سے نکال دیا گیا ہے،

عدالت نے استفسار کیا کہ مطلب اب رفاحی پلاٹ پر اسپتال نہیں بنایا جاسکتا؟ جو اسپتال بنے ہیں وہ گرا دیئے جائیں گے؟

درخواست گزار کے وکیل نے وضاحت کی کہ ترمیم کے بعد اسپتال اب رہائشی پلاٹ پر بھی بن سکتے ہیں؟ ترمیم کے بعد رہائشی پلاٹ کو تعلیمی یا صحت کی فراہمی ، تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، ترمیم کے ذریعے زمین کی منتقلی کے خلاف عوامی اعتراض کا آپشن ختم کردیا گیا ہے،

عدالت نے آبررویشن دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ری کریشنل سرگرمیوں کی بہت ضرورت ہے، موبائل فون کافی نہیں ہے،

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ری کریشنل سرگرمیوں میں کمیونٹی سروسز، کیفے اور فوڈ کورٹس شامل ہے،

ری کریشنل سرگرمیوں میں اگر پیسے چارج کئے جاتے ہوں تو وہ کمرشل نہیں ہوجائے گا؟ عدالت کا سوال

وکیل درخواست گزار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کو ریگولیرائز کیا جارہا ہے، اراضی کی منتقلی کے لیے این او سیز جاری کیے جارہے ہیں، درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم دیا جائے،

عدالت نے کہا کہ ہم اگر آپ کی بات سے متفق ہونگے تو جاری کردینگے، بعدازاں عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر پرانے قوانین اور ترمیم کو چارٹ کی شکل میں پیش کرنے کی کی ہدایت کی

اپنا تبصرہ بھیجیں