کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) کراچی کی نیب عدالت نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور دیگر کے خلاف غیر قانونی اثاثوں کا ریفرنس واپس لینے کی نیب کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے دی گئی درخواست پر دستخط درست نہیں پائے گئے اور درخواست کے ساتھ ایگزیکٹیو بورڈ کے منٹس کی کاپی بھی منسلک نہیں تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی ریفرنس کو ختم کرنے کا فیصلہ نیب ایگزیکٹیو بورڈ کرتا ہے، چیئرمین اکیلے یہ اختیار نہیں رکھتے۔
سماعت کے دوران عدالت نے نیب وکلاء سے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی قانون موجود ہے جس کے تحت مرکزی ملزم کے انتقال کے بعد دیگر ملزمان کے خلاف میگا کرپشن کیس ختم کر دیا جائے؟ عدالت نے واضح کیا کہ قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ ملزم کی وفات پر پورا کیس ہی ختم کر دیا جائے، بلکہ ریفرنس میں موجود دیگر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریفرنس میں گواہ موجود ہیں، تو پھر دیگر ملزمان پر کیس کیوں نہیں چلایا جا رہا؟
دوسری جانب، نیب وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مرکزی ملزمان آغا سراج درانی اور ذوالفقار ڈاہر پبلک آفس ہولڈر تھے جن کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ دیگر ملزمان پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ نیب پراسیکیوٹر نے چیئرمین نیب کے دستخطوں کی تصدیق کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا کہ ریفرنس اب نہیں بنتا، اس لیے اسے واپس لینا چاہتے ہیں۔ ملزمان کے وکیل نے بھی موقف اپنایا کہ نیب پراسیکیوٹرز ادارے کے نمائندے ہیں اور وہ دستخطوں کی صحت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیب نے 2019 میں آغا سراج درانی، ان کے اہلخانہ، ملازمین اور فرنٹ مین سمیت 20 ملزمان کے خلاف ایک ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کے غیر قانونی اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ آغا سراج درانی پر بطور وزیر بلدیات اور اسپیکر سندھ اسمبلی اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام تھا، جن کا انتقال 15 اکتوبر 2025 کو ہوا۔ عدالت نے فی الوقت ریفرنس واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔
انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


