پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی صوبائی محتسبِ اعلیٰ ایکٹ کے خلاف درخواست

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صوبائی محتسبِ اعلیٰ ایکٹ 2020 کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت مکمل ہو گئی، معزز عدالت نے فیصلہ سنانے کے لیے 5 مئی 2026 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

آئینی درخواست نمبر 929/2020 کی سماعت جسٹس یوسف علی سید اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور درخواست گزار ہیں جبکہ پارٹی کے وکیل خرم لاکھانی ایڈووکیٹ درخواست کی پیروی کر رہے ہیں۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم لاکھانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ صوبائی محتسبِ اعلیٰ کے اختیارات دوبارہ گورنر سندھ کو منتقل کیے جائیں گے، تاکہ احتساب کا عمل آزاد اور غیر جانبدار ہو سکے۔

اس موقع پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ سندھ کے تقریباً تمام ادارے اور انفراسٹرکچر تباہ ہو چکے ہیں، ایسے حالات میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ایک قانون کے ذریعے صوبائی محتسبِ اعلیٰ کے اختیارات اپنے کنٹرول میں لے لیے تاکہ کرپشن کرنے اور اسے چھپانے میں مزید آسانی ہو۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے مقرر کردہ محتسب، وزیرِ اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان کی کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کیسے کر سکتا ہے۔ الطاف شکور نے سوال اٹھایا کہ اگر چیف منسٹر خود کرپشن میں ملوث ہو تو اس کا مقرر کردہ افسر یا سیکریٹری اس کے خلاف کیسے ایکشن لے سکتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ محتسب کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے فرائض شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے انجام دے سکے۔ درخواست گزار کے مطابق یہ بل صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں کے ضابطۂ اخلاق کو نظر انداز کرتے ہوئے منظور کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں