نوجوان مصنف علی حیدر کے ایوارڈ یافتہ سفرنامے ’’کچورا اور وادیٔ سوق کی داستان‘‘ کی رونمائی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیرِ اہتمام نوجوان مصنف علی حیدر کے ایوارڈ یافتہ سفرنامے ’’کچورا اور وادیٔ سوق کی داستان‘‘ کی تقریبِ رونمائی جوش ملیح آبادی لائبریری میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ادبی و سماجی شخصیات سمیت شائقین ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

معروف ادیب ابنِ آس نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی حیدر کم عمری میں ہی ایک مستعد مصنف کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سفرنامے میں علی حیدر نے نہ صرف اپنی سفر کی روداد بیان کی بلکہ اردگرد کے بلند پہاڑ، خوبصورت مناظر اور زندگی کے نئے احساسات بھی عمدگی سے قلم بند کیے ہیں۔ ابنِ آس نے علی حیدر کے قلم کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان مصنف مستقبل میں ادب کے کئی شعبوں میں اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

ادبی شخصیت طاہرہ ناصر نے کہا کہ اردو زبان کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے سیکھنا اور زندگی میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے علی حیدر کی تحریر میں منظر نگاری اور الفاظ کے چناؤ کو بہترین قرار دیا اور نوجوان مصنف کو مستقبل میں افسانہ نگاری اور فنکشنز میں بھی حصہ لینے کی ترغیب دی۔

معلم اور ادیب فیض الدین احمد نے کہا کہ علی حیدر میں مشاہدے کی گہرائی اور کہانی بیان کرنے کا فن نمایاں ہے، اور انہیں فخر ہے کہ علی حیدر ان کے شاگرد ہیں۔

اس موقع پر خود علی حیدر نے کہا کہ شاعری کا شوق انہیں والدہ سے ملا، جو غالب کی شاعری پڑھتی ہیں۔ ابتدائی طور پر میں نے تحریر انگریزی میں کی، بعد میں اسے اردو میں افسانے کے انداز میں ڈھالا۔ قدرت کے مناظر کو مکمل طور پر قلم بند کرنا ممکن نہیں، لیکن میری کوشش ہے کہ ادب میں اپنا حصہ ڈالتا رہوں۔

تقریب میں سفرنامے کے اہم اقتباسات بھی پڑھ کر حاضرین کو سنائے گئے، جس سے تقریب میں موجود ہر شخص نے نوجوان مصنف کی صلاحیتوں کی داد دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں