جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مثبت کوششیں اہم مرحلے میں داخل: ایرانی سفیر

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔

ایرانی سفیر نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ مزید تفصیلات کے لیے انتظار کیا جائے، جبکہ ایرانی سفارتخانے نے ایکس پر یہ بھی لکھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پریس کانفرنس انسانی تاریخ میں ادراکی غلطیوں کی ایک مثال تھی، اور ان میں تکبر کی بیماری واضح نظر آئی، جو حکمران کو مشکل صورت حال میں ڈال دیتی ہے۔

ایرانی سفارتخانے نے دنیا کو یاد دلایا کہ جنگ اور جارحیت کا آغاز ایک اسکول کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا، جہاں 160 سے زائد معصوم بچے موجود تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے ایک دو مرحلوں پر مبنی جنگ بندی کا فریم ورک ایران اور امریکا دونوں کو پیش کیا، جسے ’اسلام آباد معاہدہ‘ کہا جا رہا ہے۔ ایران نے اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی اور امن حل کی جانب بڑھنے پر زور دیا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے قبل اہم مطالبات کو تسلیم کرانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ایران کی سابق تجاویز پانچ نکات پر مشتمل تھیں، لیکن اب یہ دس نکات پر مبنی ہیں، جن میں پابندیوں کے خاتمے، یورینیم کی افزودگی پر کچھ حد تک سمجھوتہ اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے پروٹوکول شامل ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اس گزرگاہ سے حاصل ہونے والا ٹیکس ملک کی تعمیر نو اور جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ محض عارضی جنگ بندی نہیں چاہتا بلکہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے، اور یہ مطالبہ پورے خطے میں تمام محاذوں پر لاگو ہوگا، جس میں حزب اللہ، حوثی اور دیگر علاقائی اتحادی بھی شامل ہیں۔

ایران نے مزید کہا کہ ان نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر ابتدائی طور پر بنیادی اصولوں کے طور پر ان مطالبات کی منظوری نہ دی گئی تو سنجیدہ مذاکرات میں حصہ لینے کو تیار نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں