کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد کوششیں ناکام بنائیں اور ایک خاتون کو جبری جسم فروشی کے چنگل سے بحفاظت بچا لیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی اس خاتون کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے بچایا گیا، اور ابتدائی تحقیقات میں اس کاروبار میں محسن، انعم اور کاشف نامی ملزمان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔
مزید کارروائیوں میں:
ترکی جانے والے تین مسافروں کو مشکوک سفری دستاویزات کے باعث طیارے سے اتار دیا گیا۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ انہیں زاہد اور مجیب نامی ایجنٹس نے فراڈ کے ذریعے ویزے فراہم کیے تھے۔
ایبٹ آباد کے رہائشی امان اللہ خان کو جعلی ترک ویزہ رکھنے پر طیارے سے اتار دیا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ اس نے ایجنٹ رضوان کے ذریعے یہ ویزہ حاصل کیا تھا۔
گجرات کے رہائشی محمد عبداللہ کی مراکش کے راستے اٹلی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی گئی، جس سے ایجنٹ مزمل فاروق کا غیر قانونی منصوبہ بے نقاب ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد اور بچائی گئی خاتون کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ کارروائی انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خاتمے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔


