28

ایران کا سخت ردِ عمل: “جارحیت جاری رہی تو پورا خطہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے جہنم بنا دیں گے”

**تہران (ایچ آر این ڈبلیو):** مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں کیونکہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم کے جواب میں انتہائی سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پورے خطے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے “جہنم” بنا کر دیا جائے گا۔

### **ایرانی عسکری قیادت کے بیانات**

ایران کے اہم دفاعی مراکز کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مزاحمت کا عزم ظاہر کیا گیا ہے:

* **ابراہیم ذوالفقاری (ترجمان، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز):** انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “ایران کو شکست دینے کا تصور اب ایک دلدل میں بدل چکا ہے، جس میں مخالفین خود دھنس جائیں گے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ مزید جارحیت کا جواب پورے خطے میں شدید ردِ عمل کی صورت میں دیا جائے گا۔
* **علی عبداللہی (کمانڈر، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز):** کمانڈر علی عبداللہی نے انتباہ کیا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے “جہنم کے دروازے” کھول دیے جائیں گے۔

### **پس منظر اور عالمی تناؤ**

ایران کی جانب سے یہ تند و تیز بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے:

1. **ٹرمپ کا الٹی میٹم:** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کھولنے کے لیے محض 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے، بصورتِ دیگر “قیامت ٹوٹ پڑنے” کی دھمکی دی گئی ہے۔
2. **علاقائی خطرات:** ماہرینِ دفاع کے مطابق اگر فریقین کے درمیان براہِ راست تصادم شروع ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک طویل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ایران کے اس جارحانہ موقف نے بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور اب سب کی نظریں 48 گھنٹے کی اس آخری مہلت پر جمی ہوئی ہیں۔

—–

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) پر ہم مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی جغرافیائی سیاست کی مستند کوریج فراہم کرتے ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی سپورٹ کریں: [www.hrnww.com/?page\_id=1083]

اپنا تبصرہ بھیجیں