حیدرآباد(بیورورپورٹ)حیدرآباد کے ہائی کورٹ بار آڈیٹوریم ہال میں آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص، جامشورو، دادو، بدین، سجاول، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان اور تھرپارکر سمیت صوبے بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے سندھ حکومت کی جانب سے حکومت اور وکلاء کے درمیان بنائی گئی ڈائیلاگ کمیٹی کو متنازعہ کارپوریٹ فارمنگ منصوبے سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے میں ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے شفافیت کو یقینی نہ بنانے کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ دیا جبکہ نئے عہدیداروں کا انتخاب کیا گیا: اسرار چانگ کو سیکرٹری جبکہ کاظم مہیسر کو انفارمیشن سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ شرکاء نے مختلف شہروں میں احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج کی مذمت کی گئی اور کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن حکومت سندھ نے وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ اب جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جس سے وکلاء انتقامی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔جبکہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسرار چانگ، کاظم مہیسر، اشعر مجید کھوکھر (صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد) اور دیگر نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور پاک فوج کی حمایت کا اعلان کیا گیا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل مسئلہ کارپوریٹ فارمنگ پلان ہے جس میں سندھ کی زرعی زمینوں اور نہری نظاموں کا استعمال اور کنٹرول شامل ہے۔
وکلا کا کہنا تھا کہ 10 تاریخ کو حکومت نے متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کا کمیٹی 13 تاریخ کو جائزہ لے گی، انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کی وجہ سے قانونی چیلنجز کا سامنا کرنے والوں کی مدد کے لیے ضلع اور تحصیل کی سطح پر وکلاء کمیٹیاں بنانے کا بھی اعلان کیا۔ ملیر، خیرپور اور ماتلی جیسے قصبوں میں الزامات عائد کرنے والوں میں سے کچھ کی ضمانت پہلے ہی حاصل کر لی گئی ہے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایف آئی آر میں عبدالغنی بجارانی جیسے عام شہریوں اور احتجاجی رہنماؤں کو نامزد کرنا ناقابل قبول ہے اور اس کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے احتجاج کی کامیابی عوامی شرکت کی وجہ سے ہوئی اور شرکاء کو نشانہ بنانا جمہوری حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔
70


