52

ایف پی سی سی آئی نے پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کر دی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)فیڈرل پبلک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک کی معیشت اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ جنگ سے قبل ملک میں پٹرول کی قیمت 258 روپے فی لیٹر تھی، جو اب 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، یعنی تقریباً 77 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر ایکسپورٹ پروڈکٹس پر پڑے گا، کیونکہ پٹرول مہنگا ہونے سے پروڈکٹس کی پیداوار لاگت میں اضافہ ہو گا۔

ثاقب فیاض مگوں نے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا، بنگلہ دیش، چین، اور ویتنام نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں محض 2 سے 10 فیصد تک بڑھائی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ اضافہ 77 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اضافے کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ پہلے ہی کم ہو رہی ہے اور مزید اضافہ پروڈکٹ کاسٹ کو مزید بڑھا دے گا۔

ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے تاکہ معیشت اور ایکسپورٹ سیکٹر پر منفی اثرات کو روکا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں