اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق اور سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی، وفاقی اور صوبائی سطح پر کم اہم منصوبوں پر کام روکنا ہوگا۔
وزیر اعظم نے خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کیا، اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری موجود تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ہمیں شہادتوں پر بہت افسوس ہے، ہم نے اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کیے، خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلیے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کی ہیں۔
’نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایران کے اپنے ہم منصب اور دیگر ممالک کے وزراء خارجہ سے کئی مرتبہ گفتگو کی۔ وہ اس حوالے سے بہت محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین کا دورہ کیا، انہیں بازو پر چوٹ بھی آئی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔‘
’اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے جنگ بندی کرانے کیلیے حتی المقدور کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے، معاشی ترقی کیلیے ہم سب نے پچھلے دو سال کے دوران مل کر بہت کاوشیں کی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ہے، اس وقت ترقی و خوشحالی کا وقت آ چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے ہمیں معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے بھی پیشرفت ہوگی۔
’جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو میں نے مختلف اجلاس منعقد کیے اور ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ پہلے ہفتے میں ہمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، پاکستان کے محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلیے یہ بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے، کابینہ کے ارکان نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کی کٹوتی کی گئی، پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلیے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس معاملہ میں خصوصی دلچسپی لی، انہیں ہم نے معاملات سے باخبر کیا، صدر مملکت کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اجلاس بلائے اور ان میں اچھے ماحول میں معاملات کا جائزہ لیا گیا۔‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے دیے ہیں، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، تمام وزراء اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزراء اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں، یہ ایک بہت بڑی قومی یکجہتی اتحاد و اتفاق کی علامت ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں عام آدمی اور غریب طبقے کا تحفظ کرنا ہے، اشرافیہ کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
’وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسے منصوبے جن پر ہم کام روک سکتے ہیں ان کو روکنا چاہیے اور فنڈز کی بچت کر کے عام آدمی اور غریب آدمی کے تحفظ پر خرچ کرنے چاہئیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام ممکن ہے، اس وقت سب سے زیادہ توجہ کمزور طبقہ کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ کے تحفظ پر دینے کی ضرورت ہے، گندم کی کٹائی کا کام شروع ہونے والا ہے اس کیلیے ڈیزل اور پیٹرول کی ضرورت ہے۔
’فصلوں کی بوائی کیلیے بھی ڈیزل کی ضرورت ہوگی، عام آدمی کو مہنگائی سے بچانے کیلیے پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو بھی بچانا ہوگا تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے، اس کیلیے مل کر اور کفایت شعاری کر کے فنڈز جمع کرنا ہوں گے۔


