بچت پالیسی کے باوجود پاکستان میں تیل کی کھپت میں کمی نہ آسکی

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باعث دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے اور فیول کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد بھی، پاکستان میں تیل کی کھپت میں کمی نہیں آ سکی۔

حکومت نے فیول کی سپلائی برقرار رکھنے اور کھپت کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری پالیسی اختیار کی، جس کے تحت اسکولوں میں ہفتہ وار چھٹیاں کی گئیں، سرکاری اداروں کی گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی گئی اور ایندھن کی بچت کے دیگر اقدامات کیے گئے۔

تاہم ذرائع وزارت پٹرولیم کے مطابق مارچ کے آخری 15 دنوں میں پیٹرول کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پچھلے سال مارچ کے مقابلے میں اس سال پیٹرول کی کھپت 18 فیصد اور ڈیزل کی کھپت 25 فیصد زیادہ رہی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دے دیا۔ حکام کے مطابق اس انکوائری کے بعد ممکن ہے کہ کچھ بڑی مچھلیاں پکڑی جائیں اور کچھ پیٹرولیم کمپنیوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔

حکومت کے لیے یہ امر حیران کن ہے کہ عید کی تعطیلات اور اسکولوں میں چھٹیوں کے باوجود تیل اور ڈیزل کی کھپت میں کوئی کمی نہیں آئی، جس سے ممکنہ بدعنوانی یا غیر معمولی استعمال کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں