کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تحت پی ای سی ایچ ایس بلاک 2، 3 اور 6 میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے معاملات پر سنجیدہ کارروائی نہ ہونے سے شہری پریشان ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سینئر بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان نے غیر قانونی تعمیرات کی تفصیلی رپورٹ مرتب کی، جس میں متعدد پلاٹس پر غیر معیاری اور غیر قانونی تعمیرات کو واضح کیا گیا، مگر حکام کی خاموشی کے باعث مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
مشہور پلاٹس جہاں تعمیرات جاری ہیں:
رہائشی پلاٹس: 121-D، 133-G، 231-A، 94-B، 116-K، 27-B، 48-W، 113-U
کمرشل پلاٹس: 880، 838، 807، 866-C
دیگر 30 سے زائد مقامات پر غیر قانونی اور غیر معیاری تعمیرات دھڑلے سے جاری ہیں۔
شہریوں کا الزام ہے کہ بلڈنگ انسپکٹر نے مافیا سے مبینہ طور پر “سیٹنگ” کر کے انہیں تحفظ فراہم کیا اور نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، نہ کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ خاص طور پر پلاٹ نمبر 132-B اور 84-M پر تعمیرات جاری ہیں اور کوئی انہدام نہیں کیا گیا۔
کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون صرف فائلوں تک محدود ہے، جبکہ زمین پر مافیا کا راج ہے، اور غیر قانونی عمارتیں شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔ شہری سوال کر رہے ہیں کہ کیا شہر قائد میں سب کچھ “سیٹ” ہوچکا ہے اور کیا شہریوں کی جانیں غیر قانونی عمارتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔


