لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)لاہور میں ایک نئی آئینی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں قانون کی طالبہ جمیلہ فاطمہ نے لاہور ہائی کورٹ میں سیف سٹی ای چالان نظام کو چیلنج کر دیا ہے۔ مقدمے کا دائرہ اب محض ٹریفک جرمانوں تک محدود نہیں بلکہ شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کے تحفظ کا کیس بنتا جا رہا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ ای چالان سسٹم بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے، خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 14، 15، 23 اور 24۔ شہریوں کو بغیر مناسب سماعت اور شفاف طریقہ کار کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست میں سب سے بڑا سوال نظام کی شفافیت اور انصاف پر اٹھایا گیا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر لین مارکنگ کے بغیر بھاری جرمانے، کلون نمبر پلیٹس کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں کو چالان، اور پھر ان چالانز کو ایکسائز، ٹوکن ٹیکس اور گاڑی کی ٹرانسفر سے لنک کرنا، درخواست گزار کے مطابق ایک “ثبوت کے بغیر سزا” اور “ریونیو مشین” ماڈل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اربوں روپے کی وصولی کے باوجود نہ کیمروں کی درستگی کا مکمل ریکارڈ سامنے آیا اور نہ ہی رقم کے استعمال کی شفاف تفصیل۔
شہریوں کی پرائیویسی بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ بغیر جامع ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے مسلسل کیمرہ نگرانی کو آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت عزتِ نفس اور نجی زندگی کے تحفظ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اب صرف ٹریفک مینجمنٹ نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان حدود اور حقوق کی حفاظت کا سوال بن گیا ہے۔
عدالت نے پہلے ہی موٹر وہیکل قوانین کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا شروع کر رکھا تھا اور اب اس نئی درخواست کو بھی فوری سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگر عدالت اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرتی ہے تو یہ فیصلہ نہ صرف ای چالان سسٹم بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے، جس سے شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں واضح حد متعین ہوگی۔


