**اسلام آباد، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** پاکستان کی سیاست میں ایک نئی ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں میں باضابطہ شمولیت کی دعوت دے دی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری یہ خصوصی پیشکش لے کر خود مولانا کے پاس پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات میں اہم سیاسی امور پر مشاورت ہوئی۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ پیشکش صرف صوبائی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی تعاون کی پیشکش شامل ہے۔ بلاول بھٹو کی اس دعوت پر مولانا فضل الرحمان نے فوری جواب دینے کے بجائے اپنی جماعت سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔
**سندھ اپوزیشن کی جوابی حکمتِ عملی**
بلاول بھٹو کی اس سیاسی پیش قدمی کے فوراً بعد سندھ کی اپوزیشن بھی متحرک ہوگئی ہے۔ جی ڈی اے (گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پیر پگارا کے خصوصی پیغام کے ساتھ جلد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر پگارا کے صاحبزادے پیر راشد شاہ کا مولانا سے رابطہ ہو چکا ہے اور آج رات ہونے والی ملاقات میں ڈاکٹر صفدر عباسی، معظم عباسی اور محمد خان جونیجو بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ آنے والے دنوں میں سندھ اور وفاق کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔
—
**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن ہے کہ وہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں اور ان کے عوامی اثرات پر گہری نظر رکھے۔ جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)


