**کراچی، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** عروس البلاد کراچی کے علاقے لیاری میں غیر قانونی تعمیرات کا جن ایک بار پھر بے قابو ہو گیا ہے۔ آگرہ تاج کالونی، مرزا آدم خان روڈ پر پلاٹ نمبر 24/4 پر بننے والی ایک رہائشی عمارت کی حالیہ ویجیلینس رپورٹ نے سنگین خطرات کی نشاندہی کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محض 60 گز کے چھوٹے سے پلاٹ پر گراؤنڈ پلس 4 منزلہ عمارت تعمیر کی جا چکی ہے جبکہ پانچویں منزل پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ویجیلینس سیکشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پوری عمارت بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے تعمیر کی جا رہی ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سے تاحال کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ عمارت کی سات منزلیں تعمیر ہو چکی ہیں، جو کہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متعلقہ حکام نے اس سنگین معاملے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، جس سے بلڈرز کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں لیاری کے علاقے بغدادی میں ایک غیر قانونی عمارت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 27 قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ اس سانحہ کے فوراً بعد آگرہ تاج کالونی ہی میں ‘ارحا آرکیڈ’ نامی عمارت میں دراڑیں پڑنے پر اسے مسمار کیا گیا تھا۔ اب دوبارہ اسی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات پر مکینوں نے کمشنر کراچی اور ڈی سی ساؤتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود ایکشن لیں تاکہ لیاری کو ایک اور بڑے جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔
—
**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات انسانی جانوں کے ساتھ کھلا کھلواڑ اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور عوامی تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)


