23

بینکوں کی جانب سے صارفین سے ایس ایم ایس چارجز کی مد میں بھاری وصولیاں: قائمہ کمیٹی کا سخت نوٹس

**اسلام آباد، پاکستان (HRNW)** پاکستان میں بینکنگ صارفین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق بینک ہر ایس ایم ایس (SMS) الرٹ کی مد میں صارفین سے 3.40 روپے فی میسج وصول کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام بینکوں سے گزشتہ ایک سال کے دوران ایس ایم ایس چارجز کی مد میں جمع کی گئی رقوم کا مکمل ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک دلچسپ مگر افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں نے اس اضافی وصولی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ٹیلی کام کمپنیوں کا موقف تھا کہ وہ بینکوں سے بہت کم چارجز لیتے ہیں، جبکہ بینکوں کا دعویٰ تھا کہ یہ چارجز ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے اس “بلی چوہے کے کھیل” کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اصل منافع کون کما رہا ہے۔

**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن صارفین کے معاشی حقوق کا تحفظ اور کارپوریٹ ناانصافیوں کو بے نقاب کرنا ہے۔ عام شہری کے خون پسینے کی کمائی کا تحفظ بنیادی انسانی حق ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور عوامی مفاد کی رپورٹنگ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)

اپنا تبصرہ بھیجیں