**اسلام آباد، پاکستان (HRNW)** وفاقی دارالحکومت کے مرکز بلیو ایریا میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب ہاؤسنگ سوسائٹی ‘تاج ریزیڈنشیا’ کے سینکڑوں متاثرین نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار تنویر الیاس کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ متاثرین کا الزام ہے کہ سردار تنویر الیاس کی ملکیت اس سوسائٹی کے پاس نہ تو مطلوبہ زمین موجود ہے اور نہ ہی متعلقہ اداروں سے این او سی (NOC) حاصل کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود شہریوں سے پلاٹوں کے نام پر کروڑوں روپے وصول کر لیے گئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے پلاٹوں کی مکمل رقوم ادا کر چکے ہیں، تاہم تاحال انہیں زمین کا قبضہ نہیں دیا گیا۔ احتجاج کے دوران متاثرین نے بلیو ایریا میں واقع ‘سردار پلازہ’ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی عملے نے ناکام بنا دیا۔ اس ناکامی کے بعد مظاہرین، جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، نے پلازے کے مرکزی دروازے پر دھرنا دے دیا ہے۔
متاثرین نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ اگر سردار تنویر الیاس نے فوری طور پر پلاٹ فراہم نہ کیے یا رقوم واپس نہ کیں تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ “ہم سردار تنویر الیاس کو کسی صورت چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے جب تک ہمیں ہمارا حق نہیں مل جاتا۔”
—
**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن ہے کہ وہ معاشرے کے ہر پسے ہوئے طبقے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے۔ سردار تنویر الیاس جیسے بااثر افراد کے خلاف عوامی شکایات کو سامنے لانا اور مظلوموں کو انصاف دلانا ہمارا نصب العین ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔
**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)


