**دبئی/نیویارک (ایچ آر این ڈبلیو):** عالمی توانائی کی منڈیوں میں اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی بحران پیدا ہو چکا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے نتیجے میں **آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)** کی بندش کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ بلوم برگ اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اب اس سنگین خدشے پر غور کر رہے ہیں کہ اگر یہ تعطل برقرار رہا تو خام تیل کی قیمتیں **200 ڈالر فی بیرل** تک پہنچ سکتی ہیں۔
### **بحران کے اہم محرکات اور تازہ ترین صورتحال**
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی کل رسد کا تقریباً **20 فیصد** (تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ) گزرتا ہے۔
* **سپلائی میں تعطل:** مارچ 2026 کے دوران برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمتیں پہلے ہی **120 ڈالر فی بیرل** کی سطح کو چھو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1970 کے دہائی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا سپلائی شاک ہے۔
* **میکوائری گروپ (Macquarie Group) کی وارننگ:** معروف مالیاتی ادارے میکوائری نے اپنی 27 مارچ کی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بندش دوسری سہ ماہی (جون 2026) تک جاری رہی، تو قیمتیں 200 ڈالر تک جا سکتی ہیں، جس سے عالمی سطح پر طلب (Demand) بری طرح متاثر ہوگی۔
* **تیل کے ذخائر کا استعمال:** آئی ای اے (IEA) کے رکن ممالک نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے **412 ملین بیرل** تیل نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاہم یہ بھی منڈی کے بڑے خلا کو پر کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
### **ایشیا اور پاکستان پر اثرات**
اس بحران نے ایشیائی ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر منحصر ہیں۔
* **پاکستان اور تھائی لینڈ:** پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک میں ایندھن کی قلت کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور رسد میں کمی کا خدشہ ہے، جس سے افراطِ زر (مہنگائی) میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
* **فضائی اور بحری کرائے:** ایندھن مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں جہاز رانی اور فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
### **مستقبل کا منظرنامہ**
معاشی ماہرین کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز جلد نہ کھلی تو دنیا کو **”اسٹیگ فلیشن” (Stagflation)** یعنی معاشی جمود اور بلند مہنگائی کے دور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی معیشت کی ترقی کی پیش گوئیاں پہلے ہی کم کر دی گئی ہیں، اور سرمایہ کار اب سونے اور دیگر محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) عالمی توانائی کے بحران اور اس کے پاکستان پر اثرات کی درست اور بروقت رپورٹنگ آپ تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔


