**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** ورلڈ بینک (World Bank) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2023 سے اب تک پاکستان عالمی سطح پر سرکاری ملازمین کو سب سے کم تنخواہیں اور مراعات فراہم کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کے سرکاری ڈھانچے میں تنخواہوں کے تفاوت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو نمایاں کرتی ہے۔
### **رپورٹ کے اہم نکات**
ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید میں گزشتہ تین سالوں کے دوران تیزی سے کمی آئی ہے:
* **عالمی موازنہ:** رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی حقیقی آمدنی (Real Income) کم ترین سطح پر ہے۔
* **مہنگائی کا اثر:** 2023 کے بعد سے پاکستان میں افراطِ زر (Inflation) کی بلند شرح نے تنخواہوں کی قدر کو مزید کم کر دیا ہے، جس کے باعث سرکاری شعبے کے ملازمین کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
* **برین ڈرین (Brain Drain):** کم تنخواہوں اور نامناسب مراعات کی وجہ سے قابل اور ماہر پیشہ ور افراد سرکاری شعبہ چھوڑ کر نجی شعبے یا بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دے رہے ہیں، جو ملکی انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
### **معاشی ماہرین کی رائے**
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ حکومتِ پاکستان کے لیے ایک لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کے تنخواہوں کے ڈھانچے پر نظرِ ثانی کرے۔ اگرچہ حکومت مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اخراجات میں کمی کی پالیسی پر گامزن ہے، لیکن ملازمین کی کم از کم اجرت اور مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
انصاف کے منتظر سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کی روشنی میں فوری طور پر “پے اینڈ پینشن کمیشن” کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ نچلے طبقے کے ملازمین کو معاشی تحفظ مل سکے۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) معاشی حقائق اور بین الاقوامی رپورٹس کی شفاف رپورٹنگ آپ تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔


